حرف به حرف

زلان مومند پختونخوا کے صحافی اور کالم نگار ہیں۔ ان کا کالم حرف بہ حرف کے عنوان کے تحت صوبے کے ممتاز اخبارات میں باقاعدگی سے شائع ہوتا رہا ہے۔ یہ بلاگ ان کی گزشتہ تحاریراور تازہ تخلیقات کا انتخاب ہے

Thursday, 22 September 2011

پبلک ریلیشننگ

 میرے بھی ہیں کچھ خواب؟                                                                      




                                                                              
ہمارے محبوب و مرشد جون ایلیا نے نجانے کس موڈ میں ایک مرتبہ کہا تھا کہ فوج کہیں کی بھی ہو ہوتی پنجابی ہے۔اب پنجاب شناسی کا ہمیں نہ کوئی دعویٰ ہے اور نہ کوئی تجربہ لیکن پاکستان کے توسیع پانے والےواحد آرمی چیف جناب جنرل اشفاق پرویز کیانی کی کراچی میں حالیہ مصروفیت نے حضرت جون کے اس معمہ نما بیان کی طرف ایک مرتبہ پھر ہماری توجہ پھیر دی ہےاور ہم یہی سر تلاش کر رہے ہیں کہ قومی مزاج کے وہ کون سے اہم نکات ہیں جو جناب جون کے اس عقیدے کی بنیاد ہیں کہ فوج جہاں کی بھی ہو ، ہوتی پنجابی ہے۔

کراچی میں جناب آرمی چیف کی مصروفیت کے حوالے سے بڑے بڑے اخبارات نے بڑی بڑی سرخیاں جمائی ہیں ، خبروں کے مطابق بدھ یعنی 21ستمبر کو جناب جنرل صاحب اچانک کراچی پہنچ گئے (اچانک!یاد رکھنے کا لفظ ہے)اور انہوں نے کراچی کے صنعت کاروں اور تاجروں کو فوری طور پر طلب کرلیا ، پونے دو گھنٹوں کی اس ملاقات میں بقول اخبارات، کراچی کے چیدہ چیدہ تیس پینتیس تاجر و صنعت کار موجود تھے ، ایک اخبار کے مطابق جنرل صاحب تاجر برادری کے گفتگو“مکمل توجہ اور غور” سے سنتے رہے اور دوران گفتگو وہ اپنی رائے کا اظہار بھی وقتاً فوقتاً کرتے رہے ، انہوں نے تاجروں کو یقین دلایا کہ اگر رینجرز نے (جن کے آپریشن پر فوج کڑی نظر رکھے ہوئے ہے)امن بحال کرنے میں غفلت کا مظاہر ہ کیا تو کراچی میں فوج آجائے گی ، انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کراچی کے حالات نظر انداز نہیں کرسکتی ، کیونکہ کراچی ملک کا معاشی مرکز ہے انہوں نے تاجروں کو مشورہ دیا کہ وہ حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ کراچی میں قیام امن کے لئے مزید سخت اقدامات کئے جائیں ، کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر سعید شفیق صاحب بڑے خوش تھے اور کہہ رہے تھے کہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ آرمی چیف نے امن وامان کے مسائل کے حوالے سے کراچی کے تاجروں سے ملاقات کی اور ان کی گفتگو سنی ۔ 

جس اچانک کا اوپر ذکر ہے کچھ اسی اچانک انداز سے ایک خبر مزید آج جمعرات کے اخبارات میں شائع ہوئی ہے کہ عسکری حلقوں ” میں حکومت کو چلتا کرنے کی باتیں شروع ہوگئی ہیں ، ایک اخبار نے مانیٹرنگ ڈیسک کے حوالے سے لکھا ہے کہ آٹھ ستمبر کو کورکمانڈرز کی حالیہ کانفرنس میں بعض کور کمانڈرز نے آرمی چیف سے مطالبہ کیا کہ اب حالات اس درجہ پر نزاکت سے دوچار ہوگئے ہیں کہ فوج کو اقتدار سنبھال لینا چاہئے ، لیکن آرمی چیف نے انہیں ایسی باتیں کرنے سے روک دیا اور کہا کہ سویلین حکومت کو ابھی مزید موقع ملنا چاہئے ، یہ بات واضح رہے کہ پاک فوج کے تعلقات عامہ کے ذمہ دار شعبے آئی ایس پی آر نے نہ تو 22ستمبر 2011تک آٹھ ستمبر کو ہوئی اس 142ویں کور کمانڈر کانفرنس کی کوئی پریس ریلیز جاری کی اور نہ ہی آج بروز جمعرات تک بدھ کے دن کراچی میں جناب جنرل صاحب کی سرگرمیوں کی کوئی تفصیل میڈیا کو دی ہے ۔ 
 
فوج کی اس اچانک حساسیت کی کوئی خاص وجہ نہیں ، جناب جنرل صاحب کی قیادت میں فوج کا مزاج عمومی اور عوامی مسائل کے حوالے سے قابل ‍ ذکر حد تک حساس ہو چکا ہے ، کیری لوگر بل نے اسی عوامی جذباتیت کی خشت ِ اول رکھی تھی اور پھر اس پر اکتفا نہیں ہوا تھا بلکہ توانائی کے بحران پر بھی زبردست قسم کا ایک بیان جاری کیا گیا تھا ، پھر سیلاب کے حوالے سے بھی فوجی دانشوروں کے رشحات قلم اور نتیجہ ہاۓ فکر سے عوام کو متمتع کیا گیا تھا ، یہ الگ بات کہ جب سن 2005  ء میں زلزلہ آیا تھا اور اس زلزلے نے پختونخوا کے دروبام ہلا دئے تھے اس میں فوج نے جو خدمات انجام دی تھیں ان کا بل دائیں ہاتھ سے جناب اکرم درانی کی اس وقت کی حکومت کو تھما دیا گیا تھا ، چونکہ اس وقت مستعفی ، معزول  یا مفرور صدر مملکت ہی آرمی چیف تھے اس لئے کسی قسم کی پبلک ریلیشننگ کی ضرورت کے حوالے سے فوج کی کوئی حساسیت تھی ہی نہیں ، اس زلزلے کی شدت یا اس سے ہونے والے نقصانات کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ، پوری دنیا اس بات سے واقف ہے کہ 2005 ء کا زلزلہ نوعیت ، شدت اور نقصانات کے حوالے سے کس قدر بھیانک تھا لیکن اس وقت کی ضروریات اور آج کے عصری تقاضوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔

اس وقت پورا ملک جن عذابوں سے گزر رہا ہے ، کراچی کی ٹارگٹ کلنگ ان کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی ، کینسر اور بخار کا جیسے کوئی مقابلہ نہیں ہوسکتا ، جس وقت کراچی میں جناب جنرل صاحب اس کے معاشی مرکز ہونے پر متفکر ہو کر تاجروں اور صنعت کاروں سے ملاقات کررہے تھے اس سے شاید چوبیس گھنٹے پہلے بلوچستان کے علاقہ مستونگ میں اہل تشیع زائرین کی ایک بس کے ساتھ ہونے والے واقعے پر تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے دل آزردہ تھے ، پشاور کے قلب میں دھماکے کو اڑتالیس گھنٹے ہوئے تھے ، ملاقات کے وقت طالبان کے کارندے پاکستان کی فوج ہی کے ایک ایسے ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنا رہے تھے جس میں سوات کے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل جاوید اقبال کو گولیا ں ماری جارہی تھیں ، اس سے سے کچھ ہی عرصہ قبل دیر اور چترال کی طرف سے افغانستان سے در اندازوں کی کارروائی میں کتنے ہی لوگ جاں بحق ہوچکے تھے ، لیکن حیرت ہے کہ جناب آرمی چیف کو سیکیورٹی سے متعلق ان امور کی ذمہ داری نبھانے سے زیادہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی فکر لاحق تھی ، یہ فکر بے جا بھی نہیں کہ کراچی دراصل اس ملک کا معاشی مرکز ہے، باقی علاقے خصوصاًہمارے پختونخوا کے علاقے تو بدمعاشی کے مراکز ہیں ، وزیر اعظم سے لے کر کسی بھی وفاقی وزیر یا صدر مملکت سے لے کر کسی دوسرے ذمہ دار تک کسی نے دہشت گردی (دہشت گردی ایک بیرونی خطرہ ہے ، جس کی سرکوبی کرنا افواج پاکستان کا اولین فرض ہے) سے متاثر ہ شہر پشاور یا اس صوبے کے دوسرے کسی حصے میں معاشی سرگرمیوں میں مصروف لوگوں سے یہ نہیں پوچھا کہ ان کے نقصانات کس درجہ پر ہوئے ہیں اور آیا ان نقصانات کے ازالے کی کوئی صورت بھی ہوگی یا نہیں ، یہ صوبہ پہلے ہی سے غریب ہے ، سرکاری اخراجات کا بوجھ بھی بمشکل برداشت کرسکتا ہے  ، اٹھارویں ترمیم کے ثمرات سے فیض یاب ہونے میں ابھی کافی وقت پڑا ہے لیکن افسوس کہ وزیر اعظم نے پشاور آکر یہ نہیں کہا کہ پشاور کے حالات حکومت نے ٹھیک نہ کئے تو کوئی دوسرا آکر  اقتدار سنبھال لے گا  اور نہ ہی سول سوسائٹی کی جان چیف جسٹس نے پشاور آکر یہ اعلان کیا کہ خاکی وردی والوں کو اقتدار سنبھالنے کا جواز فراہم نہ کریں ورنہ شاید آرمی چیف یہاں بھی پہنچ جاتے ۔ 

ساری بات یہی ہے ایک ایجنڈا ہے جس پر آہستہ آہستہ عمل کیا جارہا ہے ، چند باخبر لوگ اگر یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت کو سینیٹ کے انتخابا ت کرانے کا موقع نصیب نہیں ہوگا تو ان لوگوں کو یہ سر قدسی طور پر ہاتھ نہیں لگا انہیں ایک عارضی تاریخ بتا دی گئی ہے کہ اس کے بعد نظام کی رکھوالی کرنے والے بھی  زور آوروں اور بندوق برداروں کو خود ہی ہاتھ سے پکڑ کر اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھا دیں گے ، ورنہ آئین کی پاسداری اور تحفظ کا حلف اٹھانے والے چیف جسٹس کو ضرورت ہی کیا پیش آئی تھی کہ وہ خاکی وردی کے جواز کو استحکام بخشنے کی بات کریں ، یہ سب کچھ ایک طے شدہ ایجنڈے کے مطابق ہی ہورہا ہے ، آئی ایس پی آر نے ترجمانی کے فرائض کی انجام دہی میں تساہل نہیں برتا ، بلکہ اس نے گزشتہ دو ایونٹس کی رپورٹنگ نہ کر کے ہی خود غلط فہمیوں کو پیدائش کا موقع فراہم کیا اور اس وقت آئی ایس پی آر کے فرائض یہی تھے کہ لوگوں کو چہ می گوئیوں کا موقعہ فراہم کردیا جائے ، میاں نواز شریف ، چیف جسٹس اور جناب جنرل صاحب تینوں اگر سندھ و کراچی کے دوروں پر ہیں تو یہ سیاست کی ملتی جلتی کڑیا ں ہی ہیں ، یہ تو میاں نوازشریف صاحب ہی تھے جنہوں نے سب سے پہلے جمہوریت پر تبریٰ بھیجتے ہوئے یہ کہا تھا کہ حکومت کی کرپشن نے جمہوریت کو بدنام کردیا ہے ، وہ سیاست بھی کہہ سکتے ہیں لیکن لفظ سیاست اس ایجنڈے کا حصہ ہی نہیں تھا  جو بقول مرشدی پنجابیوں کا مطمح نظر ہے۔ ورنہ جب جنرل صاحب کراچی میں پبلک ریلیشننگ کر رہے تھے اور یہ کور کمانڈر ز کانفرنس میں انہیں حسب دل خواہ مبینہ مشورے دئے جار ہے تھے وہ یہ بھی تو کہہ سکتے تھے کہ سرکاری ملازموں کو اپنے حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے !!!!

Friday, 3 June 2011

سلیم شہزاد ۔۔۔ اقرباءمیرے کریں قتل کا دعویٰ کس پر


 
وہ جس کی آنکھ نے کل زندہ گفتگو کی تھی
گمان تک میں نہ تھا وہ بچھڑنے والا ہے
 
پاکستان میں ایشیا ٹائمز کے بیورو چیف اور سینئر صحافی سلیم شہزاد کا قتل سال رواں میں شہید ہونے والے دیگر صحافیوں سے قدرے مختلف ہے ۔ اس قتل کے پس پردہ محرکات کی نشان دہی کرنے والے نہایت ہی وضاحت سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ اس واقعہ کی ذمہ داری آئی ایس آئی یا فوج ہی سے وابستہ کسی اینٹلی جنس ادارے پر عائد ہوتی ہے اور اپنے اس الزام کے ثبوت کے لئے ان کے پاس دلائل کا ایک نہ ختم ہونے والا انبار موجود ہے 

اس حوالے سے حیران کن امر یہ ہے کہ جس ادارے پر الزام لگایا جارہا ہے اس کی جانب سے تعلقات عامہ کی ذمہ داری جن پر عائد ہوتی ہے وہ )ان سطور کے لکھے جانے تک )بالکل خاموش ہیں ، ہیومن رائٹس واچ کے پاکستان میں کرتا دھرتا علی دیان نے تو یہ تک کہا کہ انہیں مقتول نے واقعے سے سال بھر پہلے آگاہ کردیا تھا کہ اگر اس قسم کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو ذمہ دار کون ہوگا ؟برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ویب سائٹ پر ایک مضمون نگار نے یہ بھی کہا ہے کہ علی دیان کو انہی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے یہ بتایا گیا تھا کہ وہ بہت جلد اپنے گھر پہنچ جائیں گے انہیں پہلے موبائل فراہم کیا جائے گا اور بعد ازاں رہا کر دیا جائے گا، یہ بات بھی دھیان میں رہے کہ یہ اغوا شمالی یا جنوبی وزیرستان سے نہیں ہوا تھا ، نہ ہی ٹانک ، ڈیرہ اسماعیل خان ، پشاور ، باڑہ یا پختونخوا کے کسی بھی ضلع سے سلیم شہزاد کو اغوا کیا گیا تھا بلکہ امر واقع یہ ہے کہ انہیں اسلام آباد سے اٹھایا گیا ، ان پر دو دن نجانے کہاں سخت ترین تشدد کیا گیا اور بعد میں انہیں سرائے عالمگیر کے قریب مردہ حالت میں پھینک دیا گیا ، مقامی پولیس نے مقتول کا پوسٹ مارٹم کرایا اور ایدھی والوں نے انہیں دفنا بھی دیا ، جس شخص نے سلیم شہزاد کو غسل دیا اور قبر میں اتارا اس نے ایک نجی ٹی وی چینل کو بتایا کہ اسے اس بات کا اندازہ نہیں ہوسکا کہ بالآخر پولیس مقتول کی تدفین میں اس درجہ عجلت پر بضد کیوں تھی ؟ 

سلیم شہزاد کے قتل سے قبل اس بات کا خصوصی اہتمام کیا گیا کہ ان کی شناخت نہ ہوسکے اس کا ایک طریقہ تو ان کے قتل کے انداز میں ڈھونڈا گیا اور اس دوسری حرکت یہ کی گئی کہ ان کی جیب سے شناختی کارڈ نکال کر ان کی گاڑی میں پھینک دیا گیا ، تاکہ فوری شناخت نہ ہونے کی صورت میں تدفین میں کوئی رکاوٹ نہ رہے ، 

اس قتل پر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے دوروزہ سوگ کا اعلان کیا ہے اور کم و بیش ہر ضلعی و تحصیل صدر مقام پر اہل صحافت نے مظاہر ے بھی کئے ہیں ، لیکن چند سوالات و خدشات ایسے ہیں جو شہید سلیم شہزاد کے سوئم سے قبل ہی اس پیش گوئی کو نہایت ہی مستند بنیاد فراہم کرتے ہیں کہ ہر احتجاج دیوار سے سر ٹکرانے کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوگا، اس کیس کو میڈیا جلد یا بدیر فراموش کردے گا اور نامزد ملزموں کے خلاف ایف آئی آر تک نہیں کاٹی جاسکے گی اور اگر ٹیسٹ ٹیوب سول سوسائٹی ( جو افتخار چودھری کی ملازمت کی بحالی کی تحریک کے فوراً بعد کوما میں چلی گئی تھی اور اب اس کے میڈیائی مشیر ہی رہ گئے ہیں جو صرف اخباری بیانات سے کام چلارہے ہیں) کی تھوڑی بہت دلچسپی رہی اور کسی سوموٹو ایکشن کے ذریعے کچھ ہلچل مچی تو مسنگ پرسنز کے مقدمے کی طرح اس کی بھی تاریخوں پر تاریخیں بدلتی رہیں گی اور مسئلہ 2013ءمیں کسی نئے چیف جسٹس کے سامنے ہوگا (بشرطیکہ کسی فل کورٹ اجلاس میں پارلیمینٹ سے عدلیہ یہ مطالبہ نہ کر بیٹھے کہ جناب چودھری صاحب کو تاحیات چیف جسٹس بنا دیا جائے) 

جب سلیم شہزاد کے قتل کی پہلی خبر جیو ٹی وی پر سامنے آئی تو جو حضرت ٹیلی فون کے ذریعے تفصیلات دے رہے تھے ان کو شاید پہلے سے سمجھا دیا گیا تھا کہ انہیں کہا کہنا ہے جب ان سے پوچھا گیا کہ اس قتل کے پس پشت محرکات میں ان کا صحافتی کردار یا کوئی مخصوص سٹوری تو نہیں تھی تو جناب رپورٹر صاحب کا کہنا تھا کہ بظاہر ایسا نہیں لگتا ، نیوز کاسٹر نے ان سے اگلا سوال یہ نہیں پوچھا کہ بظاہر ایسا کیوں نہیں لگتا ؟کیا سلیم شہزاد پراپرٹی ڈیلر بھی تھے یا ان کا تعلق کسی ایسے قبائلی یا دیہی علاقے سے تھا جہاں پر قتل مقاتلوں کی دشمنیاں پشت در پشت چلتی رہتی ہیں ۔ ظاہر ہے جب ایک صحافی اپنی گمشدگی اور قتل سے پہلے ان خطرات کا تذکرہ کرتا ہے جو اس کے صحافتی کردار کی وجہ سے اسے لاحق ہیں تو اس کی گمشدگی اور قتل کی کوئی اور وجہ ظاہری یا باطنی طور پر کیا ہوسکتی ہے ؟ 

ہیومن رائٹس واچ کے علی دیان نے بی بی سی کے مضمون نگار کو یہ بھی بتا یا تھا کہ دوہزار دس میں انہیں سلیم شہزاد نے ایک ای میل کے ذریعے بتا دیا تھا کہ آئی ایس آئی کے دفاتر میں نیوی کے دو افسروں نے انہیں بلا کر کہا کہ انہوں نے ایک دہشت گرد کو گرفتار کیا ہے اور اس کے قبضے سے بڑی تعداد میں مواد برامد ہو ا ہے جس میں ان لوگوں کے نام اور پتے بھی درج ہیں جن سے وہ روابط رکھے ہوئے تھے اور یہ کہ اگر ان ڈائریوں میں سلیم شہزاد کا نام ملا تو انہیں ضرور بتایا جائے گا ۔ سلیم شہزاد نے اپنی ای میل میں لکھا ہے کہ انہیں یہ بات ایک دھمکی لگی( یہ الگ بات کہ انہوں نے اس دھمکی کو پرکاہ کے برابر اہمیت بھی نہیں دی)

یہ حقیقت ہے کہ ان اداروں کا طریقہ  واردات کچھ ایسا ہی ہوتا ہے ، افغانستان پر امریکی حملے کے وقت پشاور میں آئی ایس آئی کے دفتر میں ایسی ہی ایک پیشی اور اپنے دفتر میں ملٹری اینٹلی جنس والوں کی پوچھ گچھ کا تجربہ مجھے بھی ہے ، انہوں نے اس وقت کے پولیس چیف اور چند دیگر کرپٹ پولیس افسروں کے خلاف کچھ تحریری مواد اور سی ڈیز دکھا کر مجھے یہ بتا یا تھا کہ ان لوگوں کی کرپشن کے یہ ثبوت میں نے انہیں بھجوائے ہیں ، میں نے انہیں کہا کہ اگر مجھے آپ لوگوں پر اتنا ہی اعتبار ہوتا تو آپ لوگوں کو یہاں آنے کی زحمت ہی کیوں ہوتی ؟ان کے اس اقدام کا مقصد صرف مجھے ان پولیس افسروں کے عتاب کا خوف دلا کر خاموش کرنے کا تھا اس زمانے میں حرف بحرف کے عنوان سے میں روز انہ کالم لکھتا تھا تو روزنامہ آج میں شائع ہوتا تھا ، لیکن وہ محترم حیدر جاوید سید کی بات ہم عادی مجرم ہیں

سو شہید سلیم شہزاد کو ملا عبدالغنی برادر کی رہائی کی اصل وجہ بتانے کی پاداش میں یہ انتباہ اسی لئے جاری کیا گیا تھا اور یہ واحد موقع نہیں تھا ، ان کے کام کا تمام تر علاقہ چونکہ عسکریت ، طالبان ، القاعدہ اور سلامتی کے موضوعات سے جڑتا تھا اس لئے ان کی اکثر و بیشتر پیشیاں ہوتی رہتی تھیں ، لیکن پیشیوں ، تشدد ، معاشی مقاطعے ، جیل ، گمشدگیاں وغیرہ تو اس راہ میں عام ہیں ، جھیلنی پڑتی ہیں لیکن اس بات کا کوئی اندازہ بھی نہیں کرسکتا تھا کہ دوہزار گیارہ میں نازی دور کے گسٹاپو کی یاد دلادی جائے گی اور ایک صحافی کے قتل کے حوالے سے وہ ادارے مورد الزام ٹھہریں گے جو ملکی سلامتی کی ذمہ داری کا فریضہ انجام دے رہے ہیں ، شہید سلیم شہزاد کے قتل کا واقعہ وقت کی گرد کی نذر ہوجائے گا لیکن وہ لوگ جو یہ سطریں پڑھ رہے ہیں انہیں کم از کم یہ بات ضرور سوچنی چاہئے کہ سلیم شہزاد کو کیوں قتل کیا گیا؟صحافت اور دوسرے پیشوں میں ایک بنیادی فرق ہے ، صحافت کلی طور پر معاشرے کی امانت ہوتی ہے ، جس شے کو اقوام متحدہ کا چارٹرحق آگہی يعنی Right to know قرار دیتا ہے اس حق کے حصول کے لئے صحافی ہی ہیں جو کروڑوں اربوں لوگوں کو آگاہ کرنے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں ، پاکستان کے لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ لوگ جو ان کے حق آگہی کے لئے اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتے ان کی جانوں کے ضیاع کے بعد جو فرائض عوام کے بنتے ہیں ان کی بجاآوری میں کیا اوامر مانع ہیں؟کیا عوام کا فرض نہیں بنتا کہ ایسے واقعات پر سراپا احتجاج بنیں، ظاہر ہے یہ کام سیاسی جماعتوں کی توسط سے ہوگا ، ٹیسٹ ٹیوب سول سوسائٹی تو کوما میں ہے ، استغاثہ جن کے خلاف ہے وہ اصل قوت نافذہ Authorityہیں، کیا سیاسی جماعتیں ایسے نکات کو تحریک کی شکل میں ڈھال کر غاصبوں سے عوام کا بلاشرکت غیرے حق اقتدار چھیننے کی سعی نہیں کرسکتیں..........چاہے ناکام ہی کیوں نہ ہو، مورخ کو کچھ تو اچھا لکھنے کا بھی موقع دینا چاہئے!!!!
 
 



Sunday, 21 March 2010

کہسار باقی افغان باقی -- آخری حصہ

پشتو عالمی کانفرنس کے مدعوئین میں ہمارے ساتھی ڈاکٹر محمد زبیر حسرت بھی تھے ، پہلے صوابی والے لاہور کے ایک سرکاری کالج میں پڑھاتے تھے اب خیر سے ٹیکسٹ بک بورڈ میں پشتو کے ماہر مضمون ہیں۔ ویسے ہونا انہیں ممبر چاہئے تھا لیکن مس ریڈنگ اور مس کیلکیولیشن ہر جگہ ہوتی رہتی ہے ۔ ان سے رات گئے تک کابل انٹر کانٹی نینٹل کی لابی میں گفتگو ہوتی رہی ۔ ادبی غیبتوں کا ایک سلسلہ تھا جو ختم ہونے والا نہیں تھا ۔ہم کسی باریک نکتے پر انہماک سے تبادلہ خیال کر رہے تھے کہ اتنے میں معروف افسانہ نگار طاہر آفریدی صاحب آگئے ،کہنے لگے یہیں کہیں ان سے ادویات کھو گئی ہیں ۔ ہم نے بہتیرا تلاش کیا لیکن کچھ ہاتھ نہ آیا ۔ میں نے پوچھا طاہر صاحب کون سی ادویات تھیں انہوں نے جواب دیا کہ بلڈ پریشر کی ۔ میں نے کہا کہ بلند فشار کا عارضہ تو ہمیں بھی ہے اگر میری ادویات سے آپ آج رات کام چلا سکتے ہیں تو کل اپنے لئے منگو الیں ۔ میں نے ڈاکٹر حسرت سے کہا کہ آپ بھی ساتھ آئیں تاکہ بقیة السلف کی خدمت کی سعادت آپ کو بھی حاصل ہو ۔ سو کمرے میں پہنچ کر دوائی ایک ٹشو پیپر میں لپیٹی اور پھر لفٹ میں سوار ہو کر نیچے پہنچ گئے ۔ پھر بزرگ سے اجازت لی اور اپنے اپنے کمروں میں بند ہوگئے ۔

رات کو کسی پہر بے خوابی سے تنگ آکر جو نیچے لابی پہنچا تو حیران رہ گیا ۔ ایک شادی ہو رہی تھی ۔بچے بوڑھے خواتین جمع تھے کوئی آرہا تھا کوئی جا رہا تھا ۔ لابی میں موجود ہر ذی نفس ایک مجسمہ جمال تھا ( سوائے ہمارے)پس ہم لابی ہی میں ایک صوفے پر نیم دراز ہوگئے اور نظاروں سے لطف اندوز ہونے لگے ۔ اتنے میں دولہا اور دلہن آئے ۔ دولہا ایک انگریزی ٹو پیس میں ملبوس تھا جبکہ دلہن اپنے دولہے کی بغل میں ہاتھ دئے ایک پیارا سا گلاب کا پھول ہاتھ میں تھامے ایک عجیب و غریب حد تک نزاکت سے قدم اٹھاتی آرہی تھی ۔ کوئی گھونگھٹ نہیں تھا، کوئی لیپا پوتی نہیں تھی، سب سے بڑھ کر کوئی گوٹے کناری والی بھاری بھرکم کمخواب و اطلس ، جامے دار و کامے دار ٹائپ کی کوئی شے نہیں تھی اور ناہی کوئی زیورتھا۔ایک شدید قسم کی سادگی تھی اور اس پر چھائی ننھی منی کامنی سی کانچ کی گڑیا جیسی مورت کی دل آویز مسکراہٹ ۔انگریزوں کے نمونے کا ویڈنگ ڈریس تھایعنی برائڈل گاون تھا اس کے پیچھے لٹکنے والا حصہ جسے ٹرین کہا جاتا ہے، مختصر سا تھا لیکن ساتھ ساتھ گھسٹتا جا رہا تھا ۔

جن قارئین کواب بھی سمجھ نہیں آئی انہیں لیڈی ڈیانا کی شادی کا منظر ذہنوں میں تازہ کرنا ہوگا ۔ جوشاہی خدمت گار لیڈی ڈیانا کے برائڈل گاون کا پچھلا حصہ نہایت احترام سے پکڑے ان کے پیچھے پیچھے آرہے تھے، وہی حصہ ٹرین کہلاتا ہے ۔ اب بھی اگر سمجھ نہیں آئی تو انٹرنیٹ دیکھا جا سکتا ہے ۔

باہر نکلا تو ایک رولز رائس بھی کھڑی تھی جس میں دلہا دلہن آئے تھے ۔ میں اس درجہ کے تمول پر حیران تھا ۔ دوچار چیزیں تو مجھے اچھی لگیں اول تو یہ کہ انٹر کانٹی نینٹل میں شادی کرنے والے جوڑے کو بہر حال یہ استطاعت نصیب تھی کہ خوب لیپا پوتی کرکے اپنے قدرتی چہرے کو ملمع کاری میں دفن کردیتے لیکن انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا ۔ پشاور میں تو لڑکے بھی آج کل فیشل کرواتے ہیں۔ دوسری بات یہ تھی کہ دلہن اوردولہا دونوں زیورات اچھی خاصی مقدار میں خرید سکتے تھے لیکن ایسے کسی تکلف سے کام نہیں لیا گیا تھا ۔شاید ایک نیکلس پر ہی اس حسینہ  نازک اندام نے گزارا کر رکھا تھا ۔یہ بات تو ہمیں بعد میں معلوم ہوئی کہ افغانستان (بلکہ کابل کہئے)میں برائڈل گاون کرایہ پر لئے جاتے ہیں ۔ افغان ہوشیار لوگ ہیں جانتے ہیں کہ ایک ہی مرتبہ پہنا جائے گا سو اس لباس پر زیادہ خرچنے کی بجائے عقل سے کام لیتے ہیں ۔یہاں تو ریس لگی رہتی ہے بات لاکھوں تک پہنچ جاتی ہے اور پھر بھی تسلی نہیں ہوپاتی ۔اسی طرح رولز رائس گاڑی ہم نے فلموں ہی میں دیکھی ہے کسی شادی میں تو کجا سڑک پر ہمیں ویسے بھی یہاں کبھی نظر نہیں آئی حالانکہ ہم نے بڑے بڑے متمول لوگوں کی شادیاں دیکھی ہیں ۔وہ گاڑی بھی کرایہ پر حاصل کی گئ تھی ۔

اس نظارے سے فارغ ہوئے تو رات صبح کی بانہوں میں بانہیں ڈالتی نظر آئی ۔ اس لئے بادل نخواستہ ہمیں سونا پڑا یا سونے کی اداکاری کرنی پڑی ۔

صبح واپس جانے کی تیاری کرنی تھی سو ایک ایک چیز کو چھان پھٹک کر بار بار دیکھا کہ اس کمرے میں تو اپنی کوئی نشانی چھوڑ کر نہیں جارہے ۔ سارا سامان لپیٹ کر اپنی ہینڈ کیری میں رکھا ۔پھر دوبارہ نکا ل کر چیک کیا کہ ہوٹل کی نشانیاں کہیں ساتھ نہ لے جائیں ۔ ایسی صورت حال میں اکثر و بیشترہمارے ساتھ ڈرامے ہوتے رہتے ہیں ۔ اپنی کسی شے کے چھوڑے جانے کا خوف ایسا سوار ہوتا ہے کہ ہم ہوٹل کی اشیا ءلپیٹ لے جاتے ہیں( ظاہر ہے غیر ارادی طور پر) لیکن خدا کا شکر ہے کہ اس سامان میں ایسی کوئی بھی شے نہیں تھی جو ہماری ذاتی نہ ہو۔

باہر نکلے تو ڈاکٹر مروت صاحب وزیر اعلیٰ کا پیغام پڑھ کر تشریف لا چکے تھے ان سے پوچھا کہ ہیوادمل صاحب کی گاڑی کب آئے گی ؟کہنے لگے اب تک آجانی چاہئے تھی ایک بج گیا لیکن گاڑی نہیں آئی ۔ ہمارے ٹرسٹ کے ساتھی سید عثمان سنجش ( جنہوں نے ہمیں میکرویان میں اپنے گھر میں شاندارچائے پلائی تھی ) بضدتھے کہ وہ نہیں آئیں گے اور ہم فلائٹ کھو بیٹھیں گے۔ مجھ پر جھنجھلاہٹ طاری ہو چکی تھی، جس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ ہوٹل والوں نے ہم مہمانوں سے پچاس ڈالر کے قریب رقم کا تقاضا کر دیا تھا جو مروت صاحب نے ادا کئے اور دوسری بات یہ تھی کہ ہمارے ٹکٹ پر لکھے گئے ٹائم کی طرف گھڑیوں کی دونوں سوئیوں کی رفتار خاصی تیز نظر آرہی تھی ۔ہم نے اس درجے پر شور مچایا کہ مروت صاحب کو ہمارے بلکہ سنجش صاحب کے ساتھ جانا ہی پڑا لیکن ہوٹل کی آخری چیک پوسٹ پر دولتی گاڑی (اس کا مطلب حکومتی گاڑی ہے ) نے ہمیں آلیا ۔

گھڑی دیکھی تو فلائٹ میں پونا گھنٹہ تھا ۔ہمارے ڈرائیور نے کہا کہ بے غم باش ہم نے میدان ہوائی ( ائر پورٹ ) فون کر دیا ہے جہاز آپ کے بغیر نہیں اڑے گا ۔ ہم سمجھے مذاق اڑا رہا ہے، جہاز نے تو اڑ جانا ہے ۔ لیکن ائر پورٹ پہنچے تو جهاز کو موجود پایا ، سوجہاز کے قریب ہی ایک جگہ کھڑے کر دئے گئے دو منٹ میں ہمارے پاسپورٹ خروج کی مہروں سے لتھڑے ہوئے ہمیں تھما دئے گئے اور ایک گاڑی میں جہاز پہنچا دئے گئے کسی نے ہماری تلاشی نہیں لی ۔ عجیب سی بات تھی ،جہاز میں بیٹھے تو ایک خوش پوش بزرگ جنہوں نے جہاز کے عملے جیسا حلیہ بنا رکھا تھا آئے اور کہنے لگے آپ سے درخواست ہے کہ براہ کرم وقت پرپہنچا کریں آپ کی وجہ سے جہاز لیٹ ہو گیا ہے ۔ہم نے ایسے سر ہلایا جیسے روزانہ دو مرتبہ کابل سے پشاور آتے ہیں‘جہاز کی سیٹ سے پشت لگائے ہم یہی سوچ رہے تھے کہ 45منٹ بعد ہم وی وی آئی پیز کی بجائے 17کروڑ لوگوں میں سے ایک بن جائیں گے ۔
ختم شد

کہسار باقی افغان باقی ۹



جناب سلیم راز پشتو عالمی کانفرنس کے چیئرمین ہونے کے علاوہ ایک منجھے ہوئے شاعر ادیب اور ہمارے خطے میں ترقی پسند ادب کی علامت ہیں ۔ پشتو عالمی کانفرنس کا تصور ان کے ذہن کی پیداوار ہے ۔ یہ غالباً اپریل 1986ءکی بات ہے جب کراچی میں انجمن ترقی پسند مصنفین کا گولڈن جوبلی اجلاس ہو رہا تھا اس اجلاس کے اختتام پر نامور ادیب و شاعر جناب فخر زمان اور محترم سلیم راز صاحب نے اسی طرز پر عالمی پشتو اور عالمی پنجابی کانفرنسز برپا کرنے کا عہد کیا ، ان کے ساتھیوں میں اس دور کے مایہ ناز لکھاری فارغ بخاری اور رِضا ہمدانی صاحبان بھی موجود تھے ۔
 
پنجابی عالمی کانفرنس کو انعقاد سے کوئی اس لئے نہیں روک سکا کہ پنجابی زبان کے لئے وسائل کی کوئی کمی نہیں پنجابیوں نے ایک قومی کاز کے تحت اس کانفرنس کے انعقادکے لئے کاوشیں کیں حالانکہ*ضیاع* کا دور تھا ۔ لیکن پنجاب کے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر اس کانفرنس میں شرکت اور چندے بھی دئے -وسائل کی کسی کمی کا ذکر تک نہیں آیااور نومبر 1986ءمیں یہ کانفرنس کامیابی سے تین روز تک جاری رہی ۔

دوسری طرف پشتو عالمی کانفرنس کے انعقاد کی بازگشت سنائی دی لیکن عملی طور پر کچھ نہ ہوسکا ۔ محترم سید میر مہدی شاہ باچاکی صدارت میں ایک اجلاس العنایات میں منعقد ہوا ۔العنایا ت کرنل عنایت اللہ ایڈووکیٹ مرحوم کا دولت خانہ تھا جو ہر زبان کے ادباءاور شعرا کا ہائیڈ پارک تھا ۔ اس اجلاس میں پشتو کے نامور شعراءاور ادباءبھی شامل تھے اوران سب حاضرین نے متفقہ طور پر محترم سلیم راز صاحب کو کانفرنس کا چیئرمین منتخب کر لیا اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ راز صاحب انجمن ترقی پسند مصنفین کے بھی صوبائی کنوینر تھے اور دوسری بات اور بڑی وجہ یہ تھی کہ اس خیال کے محرک بھی راز صاحب ہی تھے ۔
راز صاحب نے بہتیری کوشش کی کہ سال 1986ءہی میں اس کانفرنس کا انعقاد ہو مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے تاہم اگلے سال اپریل 1987ءمیں انہوں نے یہ انہونی کر دکھائی ۔ تمام تر سازشوں اور نامساعد حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے وہ پشاور کے تحصیل گور گٹھڑی ہال میں اس کانفرنس کو منعقد کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔ اس کانفرنس کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں امیر حمزہ خان شنواری مرحوم (جو بابائے غزل کہے جاتے ہیں ) بحیثیت صدر شامل تھے اور اس سے بھی خاص بات یہ تھی کہ اس میں پختون /افغان قوم کے محسن اعظم فخر افغان باچاخان ؒ بھی شامل تھے ۔ باچاخان ؒ نے اس کانفرنس میں جو تقریر کی تھی وہ ان کی زندگی کی آخری تقریر ثابت ہوئی کیونکہ اس کانفرنس میں بھی انہوں نے شرکت نہایت بیماری کے عالم میں کی تھی اور اس کے بعد وہ اس قدر علیل ہوئے کہ ا ن کو طبی معائنوں کے لئے بیرون ملک لے جانا پڑا ۔
دوسری پشتو عالمی کانفر نس 2000ءمیں ہوئی جس کا افتتاح والد محترم پروفیسر قلندر مومند نے کیا جبکہ پروفیسر پریشان خٹک مہمان خصوصی تھے ۔ اب تیسری عالمی پشتو کانفرنس یہی تھی جس کا ذکر اس سے پچھلے کالم سے جاری ہے ۔ 

ہمیں اس بات کا اندازہ اس سے بھی تھا کہ افغانستان ریجنل سٹڈیز سنیٹر کے ڈائریکٹر جنرل محترم عبدالغفور لیوال نے ایک ریڈیو پروگرام میں خود اس کانفرنس کو پشاور میں ہونے والی دو کانفرنسوں کا تسلسل قرار دے کر تیسری کانفرنس کہا تھا ۔ اب جو اس کانفرنس کا انعقاد ہورہا تھا تو ہمیں معلوم ہوا کہ سلیم راز صاحب نے نہ صرف اس کا بائیکاٹ کر رکھا ہے بلکہ ایک پریس کانفرنس کے ذریعے کابل میں اس کانفرنس سے اپنی برا ت کا اعلان بھی کر دیا ہے ۔ کابل آنے سے قبل اس کانفرنس کے حوالے سے جس طرح کی سرگرمیاں جاری تھیں ان سے ہم یہ اندازہ لگا چکے تھے کہ کسی بدمزگی کا امکان بہر حال پیدا ہوگا اور ہوا بھی یہی ۔ محترم سلیم راز کا مو قف ہے کہ انہیں اس کانفرنس کے مدعوئین کے ضمن میں اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ۔ جبکہ اس کانفرنس کا انعقاد کرنے کے حوالے سے ڈاکٹر خوشحال روہی ( جو معروف ادیب صدیق روہی مرحوم کے فرزند ارجمند ہیں ) نے انہی سے ابتدائی گفتگو کی تھی ۔ 


سلیم راز صاحب کا کہنا ہے کہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس کانفرنس کے انتظامات کے حوالے سے پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کی سطح پر کمیٹیا ں بنائی جاتیں (ظاہر ہے غیر سرکاری اور وہ بھی ادباءشعرا ءکی ) اور اسے ایجنڈے سے لے کر مدعوئین تک اور انتظامات تک کے حوالے سے ایک انٹرنیشنل افیئر بنانے کی سعی کرنی چاہئے تھی - لیکن افغانستان میں اس کانفرنس کے انتظامات کو کچھ ایسے طریقے سے برتا گیا کہ اس کی بین الاقوامی حیثیت کو اس سے گزند پہنچا ۔ سلیم راز صاحب کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب انہوں نے اس کانفرنس کے مدعوئین کی ایک فہرست افغان دوستوں کو بھجوائی تو انہوں نے کہا کہ یہ فہرست اپنی طوالت کی بنیاد پر قابل ِ قبول نہیں اور صرف پانچ افراد کو مدعو کیا جاسکتا ہے حالانکہ یہ کانفرنس بین الاقوامی تھی اور اس میں ہمارے صوبے کے 24اضلاع اور بلوچستان کے چند ضلعوں سے کل ملا کر 39اہلیانِ قلم شامل تھے ۔

یہ عجیب وغریب سی ہی بات تھی جس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ۔ ہمارے دوست اسداللہ دانش جو شاید ڈاکٹر خوشحا ل روہی یا برادرم عبدالغفور لیوال کی طرف سے رابطہ افسر مقرر کئے گئے تھے ان کے پاس بھی اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا بلکہ وہ تو خود کو اس سارے قضئیے ہی سے لاتعلق قرار دیتے رہے تھے ۔ کابل میں جناب سلیم راز صاحب کی جانب سے اس بائیکاٹ کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا گیا ۔ لوگو ں نے کوئی بات تو برسرریکارڈ یا آن دی ریکارڈ نہیں کہی لیکن محرم راز لوگوں نے جو کچھ ہم تک پہنچایا اس سے یہی معلوم ہو اکہ راز صاحب کی پریس کانفرنس سے دوست ناراض ہی تھے۔ یہ الگ بات کہ اعلیٰ سطح پر ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ۔

ہمارے ڈاکٹر مروت صاحب نے کانفرنس میں وزیر اعلیٰ امیر حید ر خان ہوتی کا پیغام پڑھا ،انہوں نے اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کی کہ صلح جوئی ان کی فطرت میں شامل ہے وہ آج تک کسی متنازعہ امرکے اریب قریب  نظرہی نہیں آئے ۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ انہیں کسی بات پر غصہ ہی نہیں آتا ‘ اگر چہ ہم نے ان کے ساتھ جتنا وقت گزارا ہے اس میں کئی مرتبہ ایسے مقامات آئے ہیں لیکن ان کے خیال میں مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں اس لئے وہ کسی ایسی ویسی بات پر چیں بجبیں بالکل نہیں ہوتے اور اگر کوئی شعوری کوشش بھی کرے تو زیادہ سے زیادہ خاموشی اختیار کرلیتے ہیں ۔ لیکن اس معاملے کا کیا کیا جائے کہ عالمی پشتو کانفرنس صرف سلیم راز صاحب کا برین چائلڈ ہی نہیں وہ اس کانفر نس کے چیئرمین بھی ہیں اگر ایسا موقعہ مروت صاحب کی زندگی میں پیش آیا تو ہو سکتا ہے کہ وہ بھی طیش میں آجائیں
( جاری هے )