حرف به حرف

زلان مومند پختونخوا کے صحافی اور کالم نگار ہیں۔ ان کا کالم حرف بہ حرف کے عنوان کے تحت صوبے کے ممتاز اخبارات میں باقاعدگی سے شائع ہوتا رہا ہے۔ یہ بلاگ ان کی گزشتہ تحاریراور تازہ تخلیقات کا انتخاب ہے

Tuesday, 29 October 2013

میڈیا کی برکات۔ اور کچھ بیاں اپنا

                 یہ اس وقت کی بات ہے جب آج سے قریباً ایک عشرہ قبل بسلسلۂ روزگار ہمیں ایک ٹیلی وژن چینل سے وابستہ ہونا پڑا، غریب الدیاری اور خواری(مؤخر الذکر لفظ پشتو اور فارسی دونوں کا سمجھا جائے) کی ایک الگ ہی کہانی ہے اسے پھر کسی وقت پر اٹھا رکھتے ہیں ، اس وقت ہماری زبان کا کوئی چینل ہی نہیں تھا ( ابھی حال ہی میں ایک دوسرا چینل کھلا ہے لیکن اس چینل کے آگے پیچھے دائیں بائیں اور اوپر نیچے کوئی نظر ہی نہیں آتا) اس پر چینل کے مالک کی شدید خواہش تھی کہ اس چینل میں حالات حاضرہ اور نیوز کا بھی شعبہ ہونا چاہئے ، چناں چہ ایک مسئلہ ہمیں درپیش تھا اور وہ یہ کہ ہم نے سب کچھ شروع کرنا تھا اور وہ بھی زیرو سے-
               چینل کے مالک نے ہمیں ایک میٹنگ کے لئے بلوایا ، ایک دوسرے تجربہ کار صحافی جنہوں نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا تھا اور ہمارے چینل کے ڈائریکٹر نیوز تھے وہ بھی موجود تھے، انہوں نے ہم دونوں کے سامنے ایک سوال رکھا کہ پالیسی کیا ہونی چاہئے ؟ہم نے اپنے ڈائریکٹر کی طویل تقریر سنی ، بڑے علمی اور تہذیبی نکات کا عمیق جائزہ انہوں نے نہایت ہی سادہ انداز میں چینل کے مالک کے سامنے رکھ دیا، ان کی باری ختم ہوئی تو محترم مالک نے ہم سے استفسار کیا  ہمارے پاس دلائل و براہین کا وہ قاموس تو نہیں تھا جو ہمارے ڈائریکٹر کے پاس تھا البتہ ہم نے خود مالک سے یہ پوچھنے کی جسارت کی کہ پالیسی کی ضرورت ہی کیا ہے ؟کیا اس حوالے سے انہیں سرکاری طور پر کوئی ہدایت موصول ہوئی ہے یا وہ خود کسی خاص قسم کی سوچ اس چینل کے ذریعے پروان چڑھانا چاہتے ہیں ؟ہمارے اکھٹے ان سوالات مع تأثرات پر انہیں حیرت ہوئی اور کہنے لگے کہ ابلاغ کے ہر ذریعے کی کوئی پالیسی ہوتی ہے ، ہم نے کہا کہ ایسا سابقہ سویت یونین کے زمانے میں ہوا کرتا تھا ، آزادئ اظہار کے سب سے بڑے وکیل امریکہ اور اس کے حلیفوں نے مختلف حیلوں اور بعض ممالک میں قوانین کے ذریعے ابلاغ کے آزاد ذرائع کا ناطقہ بند کر رکھا تھا ، اور جو اخبارات و جرائد سویت یونین کی طرف معمولی جھکاؤ کا بھی اظہار کردیتے تھے انہیں پراپیگنڈا مشین قرار دیا جاتا تھا ، اور پھر سرکاری مراعات یافتہ میڈیا اس اخبار یا جریدے کا کوئی ایسا نقشہ کھینچتے کہ معلوم ہوتا کہ یہ کوئی شیطانی منصوبہ ہے یا رسالے اخبار وغیرہ کا ایڈیٹر گوئبلز کا کزن ہے ، ان معروضات کا اثر خاطر خواہ ہوا ، پوچھنے لگے کہ پھر کیا کیا جائے ، ہم نے گزارش کی کہ پالیسی کی ضرورت ہی نہیں ، ہم نے سچ ہی کو فروغ دینا ہے ، عوامی مفادات کا خیال رکھنا ہے اور کھرے کھوٹے کی تمیز بتانی ہے اس کے لئے کسی پالیسی کی ضرورت نہیں ، انسان اس درجہ پرترقی کر چکا ہے کہ اب برے بھلے کی تمیز کرنے کے لئے سقراط کے پاس جانے کی ضرورت نہیں رہی ، بچہ بچہ سمجھتا ہے کہ فلاں کام کے پس پشت کیا عوامل کارفرما ہوسکتے ہیں ، چناں چہ یہ طے پایا کہ کوئی پالیسی ہی نہیں ہوگی ، جو بھی ہوگا خلوص نیت سے ہوگا اور عوامی مفاد کو ہر مفاد پر مقدم رکھا جائے گا-
             سچائی بھی یہی ہے ، سویت یونین کے خاتمے کے سو نقصانات ایک طرف اور یہ فائدہ دوسری طرف کہ اس عظیم تحلیل ریاست نے آزادئ اظہار کی راہ ہموار کر دی ، ہمارے پرانے رفقائے کار ، سرکاری ملازمین اور حکومتی میڈیائی ذرائع سے منسلک صحافت کاروں کے نزدیک اس بات کی اہمیت مشکوک ہو یا ان کے نزدیک پالیسی کا وجود ازبس ضروری ٹھہر سکتا ہے لیکن اب دنیا 1991ء سے بہت آگے نکل چکی ہے ،ذرائع ابلاغ کا ایک کردار متعین ہوچکا ہے اور ان کے کردار کے اثرات بد کی وجہ سے اس تعین کی سمت واضح نہیں ہوپا رہی گویا یہ نو دریافت کرداری تعین بھی مسلسل ارتقا کے مراحل سے گزر رہا ہے ، ابلاغ کا ہر ذریعہ مختلف تجربوں کے ذریعے غلطیوں سے سیکھ رہا ہے ۔ہمارے خیال میں ابلاغ کے کسی بھی سوتے کی کوئی پالیسی نہیں ہونی چاہئے سوائے ایک پالیسی کے اور وہ ہے ملازمین کے تقرر کی ، ان کی اہلیت کے معیار کی ، اور ان کے علم و دانش اور آگہی کی ۔
               یہی دیکھ لیں کہ آج کل ہر نیوز چینل شیخ رشید کو نہایت ہی پرائم اوقات میں دل کی بھڑاس نکالنے کا بھرپور موقع فراہم کرر ہے ہیں اور جناب شیخ بھی ایسے طرز عمل کا مظاہر ہ کر رہے ہیں کہ جیسے ان کے پاس پاکستان کے تمام مسائل کا حل موجود ہے ، اور یہ کہ پاکستان کے ہر مسئلے کا جتنی باریک بینی سے انہوں نے مطالعہ کر رکھا ہے اس قدر علم یہاں کے اداروں اور جامعات کے پاس بھی نہیں ، گویا ہر نوعیت کی سیاسی دانش شیخ رشید کے گھر کی لونڈی ہے ، سوائے ایک طلعت حسین کے جنہوں نے اپنے ایک پروگرام میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا تھا کہ اس ملک کی ذہنی پستی کی اس سے بڑی دلیل کیا ہوگی کہ بڑے بڑے سیاسی دماغوں کی بجائے تمام چینل شیخ رشید کو دن رات سر پر اٹھائے پھرتے ہیں 
             الیکٹرانک میڈیا کے حوالے سے چند سال پیشتر اس رائے کا اظہار ہم نے کیا تھا ہمارے ہاں جو کچھ ہورہا ہے وہ صحافت کا شوبزنس ہے اسے ٹی وی جرنلزم نہیں کہا جاسکتا ، یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ٹی وی چینلوں نے راتوں رات مشہور صحافیوں کو جنم دیدیا ہے ، جن لوگوں نے اپنی زندگی میں کسی جلوس کی رپورٹنگ نہیں کسی پریس کانفرنس میں نہیں بیٹھے وہ لوگ اچانک نجانے کہاں سے پیراشوٹ کے ذریعے نیوز چینلوں پر سیاست دانوں سے سیاست کی باریک بینیوں پر سوالات پوچھتے رہتے ہیں اور وہ ابھی اس قسم کے اول فول کے ابکائی اور متلی کی سی کیفیت ہوجاتی ہے ، اس پر بھی مستزاد یہ کہ نیوز ریڈروں کو اینکرز بنا دیا گیا ہے ، نہ انہیں کسی سیاسی پارٹی کی تاریخ کا پتہ ہوتا ہے نہ ملکی سیاست کی تاریخ کی سمجھ ہوتی ہے نہ ہی ملکی آئین و قوانین سے کسی قسم کی واقفیت لیکن بھلا ہو پی آر بینک کا جس نے پاکستان میں اس قدر برانچیں کھول رکھیں ہیں کہ ہر قسم کے لوگ نیوز ریڈر سے اینکر ، اینکر سے دانشور اور اب فلاسفر بنتے جارہے ہیں ،ٹی وی پر آ موجود ہونے والے ایسے ماہرین سوات کا کیا ذکر کریں جو سوات کو ساوات کہتے نہیں تھکتے ، ہر چینل کے حالات حاضرہ کے پروگرام کرنے والوں کے پاس ایسے ’’دانشوروں‘‘ کا ایک فہرست ہوتی ہے جنہیں سحری سے لے تہجد تک کے سارے وقت میں کسی بھی وقت بلایا جا سکتا ہے ، اور ان ماہرین کی مصروفیات میں کوئی خلل بھی واقع نہیں ہوتا ۔
            ایک حضرت ہیں جو ڈاکٹر کہلاتے ہیں لیکن اتنا چیختے ہیں اتنا چیختے ہیں کہ ان کی دماغی صحت پر شک ہو جاتا ہے ، صنف نازک کے حسن و جمال اور پیکر کے شیدائیوں نے ایسی خواتین اینکرز کو بھی اس میدان میں لا بٹھایا ہے جن کا نہ تو صحافت سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی اس ملک کے عمومی مسائل کا ان پر کوئی اثر مرتب ہوتا ہے ، یہ بات الیکٹرانک میڈیا تک محدود نہیں ، اخبارات کے صفحات کیا زیادہ ہوئے ان کا پیٹ بھرنا اور بھی مشکل ہوگیا ، جو لوگ پروف ریڈر تھے وہ اداریہ نویس و کالم نویس بن گئے چلئے کسی طور ایک مقام پر اس دلیل کا استحکام متاثر ہوسکتا ہے ، لیکن ہومیوپیتھک ڈاکٹروں ، بیمہ ایجنٹوں اور حکیموں کے ساتھ ساتھ ایسے ہی پیشوں سے وابستہ لوگ بھی اب کالم نویسی کا شغل فرمانے لگے ، پہلے زمانے میں اخبارات کے ادارتی صفحے پر ایک آدھ کالم ہوتا تھا لیکن آج کل ایسی الٹی گنگا بہنے لگی ہے کہ جس نے دس سطریں کھینچیں بس وہ تصویر کے ساتھ جناب مدیران کرام کالم کی صورت شائع کر دیتے ہیں ، پھر سکولوں سے وابستہ اساتذۂ کرام کی ایک وافر تعداد بھی اس کار خیر میں مصروف ہے ، ان کا مطمح نظر یہ ہوتا ہے کہ جیسے تیسے ہیڈ ماسٹر کو اپنی اخباری سرگرمی سے کنٹرول کیا جاسکے ، ایسے حالات میں اچھا بھلا انسان بھی حسن نثار جتنا مایوس ہو سکتا ہے ۔ان میڈیائی دانشوروں کی بصیرت افروزیوں کی داستان ختم نہیں ہوئی ۔ یا ر زندہ صحبت باقی !! 

Thursday, 10 October 2013

ضمیر کا بوجھ اور اعظم ہوتی

ہمیں اس بات سے کلی اتفاق ہے کہ واقفان حال کے نزدیک اس تحریر کا عنوان ہی شتر گربگی (Oxymoron) کی مثال ہے لیکن اسی عنوان کا انتخاب اس لئے لازم تھا کہ اعظم ہوتی کے نزدیک وہ یہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں وہ ضمیر کے بوجھ کی وجہ سے کر رہے ۔ مرزا اسداللہ خاں غالب کو کسی ایسی ہی صورت حال سے قبل حالِ دل پر ہنسی آتی تھی لیکن بعدازاں وہ صاف لفظوں میں فرما گئے کہ انہیں اب کسی بات پر ہنسی نہیں آتی ۔

 ہمارے ہاں کسی زمانے میں اخبار نویس بڑے باخبر ہوتے تھے اور ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ انہیں سب کچھ پتہ ہوتا ہے لیکن شاید اب ایسا نہیں ، ان تمام باتوں سے قطع نظر جو اعظم ہوتی نے ایک تسلسل میں کی ہیں کسی صحافی نے ان سے یہ پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کی ، وہ گزشتہ کتنے ماہ سے اپنے عظیم والدؒ خان لالا امیر محمد خان کا مدفن ومرکز چھوڑ کر پشاور میں بطور ایک مہاجر رہائش پذیر ہیں،اور وہ کون سے عوامل تھے کہ وہ نہ صرف یہ کہ مردان میں خدائی خدمت گاروں کی اولادوں کو چھوڑ کر آئے بلکہ مردان میں خدائی خدمت گاری کے مرکز خان لالا کا گھر اور حجرہ بھی چھوڑ کر پشاور میں آبسے ؟

پھر انہوں نے جن خیالات کا اظہار اسفندیار ولی خان کی شخصیت کے حوالے سے کیا اس کے اس پہلو کو وہ بالکل فراموش کرگئے کہ دراصل انہوں نے اپنی درید ہ دہنی کا ہدف خان عبدالولی خان کی ذات کو بنا یا ہے ، ایک نا سمجھ اور اس قصے سے ناواقف آدمی تو یہی سمجھے گا کہ رہبر تحریک نہ صرف کہ درپردہ سازشوں کی مجاز اتھارٹی تھے بلکہ کرپشن اور حکومت سے عطیات وصول کرنے جیسے اہم معاملے پر خامو ش رہ کر نامعلوم مصلحت کا شکار ہوئے ، اور وہ بھی صرف اس لئے کہ اعظم ہوتی کی خوشنودی انہیں حاصل رہے ،اور اعظم ہوتی کے نامزد کردہ مرکزی صدر کی صدارت کا بھرم رہے-

 خوش قسمتی ہے کہ رہبر تحریک کی سیاسی زندگی ایک کھلی کتاب ہے اور انہوں نے اپنی زندگی میں اپنی خود نوشت لکھ کر اعظم ہوتی کے بہت سارے سوالات کا پیشگی جواب دیدیا تھا،اس بات سے بھی انکار کی گنجائش نہیں کہ ہمیں کسی کے ضمیر کے بارے میں فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ، شاید یہ اختیار کسی کے پاس نہیں ، لیکن ضمیر کے فیصلوں کے منصۂ شہود پر آنے کے بعد ہر فیصلہ ایک طبعی شکل اختیار کرتا ہے یا اس طبعی شکل کے وجود میں آنے کی راہ ہموار کرتا ہے ، سو ایسا کوئی بھی فیصلہ نقد ونظر کے میزان پر پرکھا جاسکتا ہے - 

ضمیر کے بوجھ سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے بقول اعظم ہوتی ان کے پاس تین راستے تھے ، ان تین راستوں کی وضاحت انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں یوں کی تھی کہ اولاً ان کے پاس راستہ یہ تھا کہ وہ پارٹی کے اعلیٰ اختیاراتی فورم پر بات کرتے ، دوسرا راستہ یہ تھا کہ وہ ساز باز یا جوڑ توڑ کرتے اور 2005کے اواخر میں جیسا بیگم نسیم ولی خان صاحبہ کے ساتھ ہوا اسی قسم کے کسی ماڈل پر کام کرتے اور تیسرا راستہ یہ تھا کہ وہ پریس کانفرنس کرتے اور جو بیان انہوں نے اس پریس کانفرنس سے چند روز پیشتر دیا تھا اس کا دفاع کرتے -

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے تیسرے راستے کا انتخاب کیا ، انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اول الذکر دونوں راستے انہوں نے کیوں نہیں چنے ، یہ نہ بتانے کی وجہ بڑی بیّن اور واضح ہے - عوامی نیشنل پارٹی کے ہر اعلیٰ اختیاراتی فورم پر وہ اسفندیار ولی خان کی قیادت کو ناگزیر قرار دیتے رہے تھے ، حتیٰ کہ آخری مرکزی مشاورتی اجلاس جس میں انہوں نے شرکت کی تھی اس میں بھی انہوں نے اسفندیار ولی خان کی قیادت کو پارٹی کے لئے از بس ضروری قرار دیا تھا ، لیکن اگر انہیں یہ یاد نہ ہو تو انہیں یہ توضرور یاد ہوگا کہ اسفندیار ولی خان نے اس مرتبہ پارٹی کی قیادت کرنے سے معذرت ظاہر کردی تھی ، یہ ان دنوں کی بات ہے جب اے این پی برسر اقتدار تھی اور چار سال کی آئینی مدت کے خاتمے پر پارٹی اپنے طریق کار کے مطابق ممبر سازی کے مرحلے سے گزر رہی تھی ، مرکزی کونسل کے اجلاس نے متفقہ طور پر اسفندیار ولی خان کی معذرت مسترد کردی تھی اور انہیں یہ کہا تھا کہ وہ بہر حال پارٹی کی قیادت جاری رکھیں گے ، یہی وہ موقع تھا جب اعظم ہوتی نے اسفندیارولی خان کی قیادت کی ناگزیر حیثیت کی مزید تشریح کی تھی -

 30نومبر 2011کو جب پارٹی کے مرکزی انتخابات کا انعقاد وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ہورہا تھا تو اس وقت بھی اسفندیارولی خان کا نام اعظم ہوتی نے یوں تجویز کیا تھا’’میں محمد اعظم خان ہوتی پارٹی کی مرکزی کونسل کے رکن کی حیثیت سے اسفندیارولی خان کا نام پارٹی کی صدارت کے لئے تجویز کرتا ہوں‘‘۔ جس کی تائید سینیٹر عبدالنبی بنگش صاحب نے کی -

 یہ تو خیر دو سال پرانی بات ہے اور ضمیر کا حافظہ شاید ان دنوں فالج کی نذر تھا لیکن چار جون 2013ء کو پشاور میں منعقدہ صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس میں ان کے خیالات اسفندیار ولی خان کے بارے میں سر مو تبدیل نہیں ہوئے تھے- 

انہوں نے ساز باز ، جوڑ توڑ یا سازش کے آپشن کے عدم استعمال کی وجہ نہیں بتائی ، وہ بھی کوئی قابل بیان وجہ نہیں تھی کیونکہ انہوں نے اپنے جن دو قریبی رفقاء سے بات چیت کی انہوں نے ان کی کوئی حوصلہ افزائی نہیں کی ، البتہ تیسرا آپشن استعمال کرنے کا ان کے پاس ہمیشہ موقع تھا-

 اپنی پریس کانفرنس میں اعظم ہوتی نے ایک بات یہ بھی کہی تھی کہ وہ 1970ء کی دہائی سے رہبرتحریک خان عبدالولی خان کے بہت قریب رہے ہیں ، حالانکہ واقعاتی صداقتیں اس سے مطابقت نہیں رکھتیں ، ایک تو 70کی دہائی پاکستان کی سیاست کے حوالے سے نہایت ہی طوفانی قسم کی تھی ، بنگلہ دیش کی آزادی ، آئین کی ترتیب اور اس کے بعد حیدرآباد سازش کیس ایسے مراحل تھے جن میں نیپ کی ہائی کمان میں کسی نے بھی اعظم ہوتی کا نام نہیں سنا تھا ، پارٹی کی کسی بھی میٹنگ میں اعظم ہوتی کی رہبرتحریک کے ساتھ کوئی تصویر تک نہیں ، واضح رہے کہ حیدرآباد سازش کیس کے خاتمے پر رہبرتحریک رہائی کے بعد لندن چلے گئے تھے ، یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ 1970کی دہائی میں اعظم ہوتی کی عمر صرف 24سال تھی ، اور 70ہی کی دہائی میں وہ سانحہ لیاقت باغ کے بعد کابل چلے گئے تھے  وہ 1946میں پیدا ہوئے ہیں ، اور اسفندیار ولی خان سے ان کی عمر تیس چالیس سال زیادہ نہیں بلکہ دو سال اور چند ماہ ہی زیادہ ہے ، اسفندیار ولی خان فروری 1949میں پیدا ہوئے -

ہم یہ بھی نہیں کہیں گے کہ ’’کہ آمدی و کہ پیر شدی‘‘ لیکن اگر اعظم ہوتی کا استدلال یہ ہے کہ وہ اور ان کے والد اس تحریک کے ساتھ رہے ہیں تو اس سے زیادہ دعویٰ اسفندیار ولی خان کا ہے جو یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ تحریک شروع تو ان کے گھر انے سے ہی ہوئی ہے ، خان لالا امیر محمد خان ؒ کی عظمت و جدوجہد میں کوئی شک نہیں ، ان کی ذات اس پورے معاملے سے بالا ہے ، لیکن چونکہ اعظم ہوتی نے ان کا ذکر کیا تھا اس لئے مجبوراً ان کا نام بھی آیا، جس زمانے میں بزرگوارم محترم اجمل خٹک مرحوم کو پرویز مشرف کی ذات میں کسی روشنی کی جھلک نظر آئی تھی اور نتیجتاً انہیں اے این پی سے جانا پڑ گیا تو وہ کہا کرتے تھے کہ انہوں نے اسی( 80)سال خدائی خدمت گاری کو دئے ، جس کا انہیں یہ صلہ دیا گیا ، رہبر تحریک خان عبدالولی خانؒ سے جب کسی نے یہ استفسار کیا تو انہوں نے پوچھا تھا کہ اسی سال تو ان کی عمر نہیں اپنی پیدائش سے بیس سال قبل وہ نجانے کہاں خدائی خدمتگاری کرتے رہے ، اب وقت کے الٹ پھیر نے اس سوال کو نئی زندگی عطا کر دی ہے ، اعظم ہوتی اسفندیار ولی خان سے دو ایک برس عمر میں زیادہ ہیں ، ان کی سیاسی جدوجہد کی کتاب کے سارے ورقے خالی ہیں لیکن تأثر ایسا دے رہے ہیں کہ وہ 1910ء میں آزاد سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے یا فضل محمود مخفی صاحب ان سے رشتہ تلمذ رکھتے تھے

70کی دہائی میں وہ افغانستان چلے گئے تھے ، جنرل ضیاع کےمارشل لا میں واپس آئے تو بھی رہبر جیل میں تھے بعد میں رہبر لندن چلے گئے ، در اصل اعظم ہوتی کی سیاسی زندگی کا آغاز 1988ء کے عام انتخابات کے ساتھ ہوا تھا ، 1990ء میں جب وہ رکن قومی اسمبلی بنے اور وزیر ہوئے تو ان کا اثر ورسوخ پیدا ہوا ، باقی کی زندگی کا وہ حوالہ نہ دیں کہ اس دوران کوئی ایسا سیاسی عہدہ ان کے پاس نہیں رہا جو پالیسی سازی پر اثر انداز ہو ، ان کا اثر ورسوخ کا منبع بیگم نسیم ولی خان کی ذات ہی تھیں اور اس میں کسی کو کوئی شک نہیں - 

اعظم ہوتی نے اپنی پریس کانفرنس میں اسفندیار ولی خان کے لئے کوئی ایسا نازیبا کلمہ استعمال نہیں کیا تھا بلکہ یہ تک کہا تھا کہ وہ شریف النفس انسان ہیں لیکن جب انہیں پارٹی سے فارغ کردیا گیا تو اس کے بعد خیبر نیوز پر انہوں نے اسفندیار ولی خان پر نہ صرف یہ کہ الزامات لگائے بلکہ رہبرتحریک خان عبدالولی خانؒ کے حوالے سے انہوں نےجو کچھ اسفندیار ولی خان کی بابت کہا وہ بلواسطہ رہبرتحریک کے خلاف چارج شیٹ تھی ، اسے اعظم ہوتی کی بدقسمتی پر محمول نہیں کیا جاسکتا کہ وہ رہبرتحریک کے حوالے سے جو گواہ بھی پیش کرتے ہیں وہ طبعی طور پر یا سیاسی طور موت سے ہمکنار ہوچکا ہوتا ہے ، ان کے زندہ گواہ بیگم نسیم ولی خان اور فرید طوفان ہیں ، جو اسفندیار ولی خان کے خلاف گواہی دیں یا نہ دیں ان کا فیصلہ پہلے سے ہی معلوم ہوتا ہے -

 اعظم ہوتی نے یہ بھی کہا کہ اسفندیار ولی خان کے حوالے سے رہبر تحریک خان عبدالولی خان کا کہنا تھا کہ وہ منافق ہیں ، جھوٹے ہیں اور بزدل ہیں ، اس دعوے کی تصدیق واقعاتی صداقتوں سے کتنی ہوتی ہے اس کے بارے میں وہ اسی پروگرام میں کہتے ہیں کہ پہلی دو باتوں کو چھوڑ دیں لیکن بزدل تو وہ ہیں ہی کہ ولی باغ میں دھماکے کے بعد وہ فوری طور پر ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر اسلام آباد چلے گئے۔

 ہم ان پہلی دو باتوں کو بھی نہیں چھوڑتے ، ان کے حوالے سے بھی بعض امور کا انہیں جواب دینا چاہئے - جس منافقت کا الزام انہوں نے اسفندیار ولی خان پر لگا یا ہے اس کا کوئی ثبوت تو انہوں نے نہیں دیا البتہ چوبیس سال تک اسفندیار ولی خان کو صدر بنائے رکھنے اور دل سے انہیں صدر نہ ماننے کی روش کو کیا نام دیا جائے وہ خود ہی بتا دیں - 

جھوٹ بولنا بہت بڑی روحانی بیماری ہے ، اس بیماری کے کردار پر بہت اثرات مرتب ہوتے ہیں ، جھوٹے کی محبوبیت نہیں رہتی ، جھوٹ کھلتے رہتے ہیں شخصیت کا طلسم جاتا رہتا ہے - اسفندیار ولی خان پر یہ دوسری تہمت باندھنے سے قبل اس نکتے پر غور کرنا لازم ہے کہ جن خدائی خدمتگاروں کی اولادوں کو آج اچانک بیداری کا اذن اعظم ہوتی کی جانب سے مل رہا ہے ان میں وہ خود کتنے مقبول ہیں ،اور خود ان کا کردار کتنے لوگوں(خدائی خدمتگاروں اور ان کی اولادوں کو چھوڑئیے) کے لئے مشعل راہ اور چراغ ہدایت ہے؟ 

ہیلی کاپٹر میں اڑ کر اسلام آباد جانے کو پھبتی بنا کر بار بار اسی پر تان توڑنے کو تقریر بازی کہئے یا شعبدہ بازی لیکن کیا اس بات سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ اے این پی کی مشاورتی کمیٹی مرکزی کمیٹی مرکزی مجلس عاملہ صوبائی مجلس عاملہ کتنے ہی فورم ہیں جنہوں نے اسفندیار ولی خان کو یہ مشورہ دیا کہ وہ اپنی سرگرمیاں محدود کرلیں، اور یہ کہ ان کے لئے موجودہ حالات کے تناظر میں پہلے جیسی سیاسی سرگرمی جاری رکھنا قرین مصلحت نہیں ، چلئے اسے بھی ایک طرف رکھتے ہیں جس دن اعظم ہوتی پریس کانفرنس کر نے پشاور پریس کلب پہنچے اور صدر کے کمرے میں تشریف فرما تھے تو کیا انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ جس روزخودکش دھماکہ ہوا تو اسفندیارولی خان کو انہوں نے ہی یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ جناب آصف علی زرداری کی دعوت قبول کرتے ہوئے اہل خانہ سمیت اسلام آباد چلے جائیں ؟ کیا اس بات سے انکار کرنا ان کے لئے ممکن ہے جو انہوں نے درجنوں صحافیوں کے روبرو کہی ؟اور کیا اس بات کو بطور حجت تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ وہ اس لئے بزدل ہیں کہ وہ اسلام آباد چلے گئے ؟اس اصول کی تشریح کے لئے انہیں دلیل منطق سیاست تجزیہ اور نجانے کیا کیا متعلق وغیر متعلق اشیاء جن کے نام انہوں نے گنوائے کوئی ایک بھی میسر ہے؟

انہیں تو اصولی طور پر اس واقعے کا ذکر تک نہیں کر نا چاہئے تھا کیونکہ وہ خود اس بات کی وضاحت نہیں کرسکتے کہ مردان سے وہ بغیر ہیلی کاپٹر کے اڑ کر پشاور کیسے پہنچے ، وہاں تو کوئی دھماکہ بھی نہیں ہوا تھا ، اور نہ ہی انہیں کسی نے بلایا تھا!

 انہوں نے یہ بات بھی کہی کہ بیگم نسیم ولی خان پر قاتلانہ حملہ اسفندیار ولی خان نے کروایا تھا اور یہ کہ یہ بات اسفندیار ولی خان نے رہبرتحریک اور سنگین ولی خان اور خود ان کے سامنے بھاری دل سے تسلیم کی تھی ( نوٹ کیجئے کہ ان کے گواہوں کی فہرست میں ایک تو وہ خود مدعی ہیں باقی وفات پاچکے ہیں) لیکن اس حوالے سے بھی چند نکات جواب طلب ہیں کہ اگر ایسا ہوا تھا تو بیگم نسیم ولی خان جو بین السطور بات کرنے میں ملکہ رکھتی ہیں اپنی پارٹی سے بیدخلی کے بعد ضرور اشاروں اور کنایوں میں یہ بات کہہ دیتیں لیکن فی الحقیقت ایسا نہیں ہو ا ، یہ تہمت ہی نہیں گمراہ کن پروپیگنڈہ ہے-

ان سطور کے لکھنے کے دوران اس بات کا خیال مجھے آیا کہ اس واقعے کی صداقت کے بارے میں بیگم نسیم ولی خان سے خود بھی پوچھا جا سکتا ہے ، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے اس واقعے سے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا ، کچھ دیر بعد ان کا فون آیا ، انہوں نے پہلے تو اس واقعے کے حوالے سے اپنے پہلے بیان کی تردید کی ،اور کہا کہ ایسا مردان میں ہوا تھا اور اس موقع پر سنگین ولی خان ، اعظم ہوتی اور رہبرتحریک کے ساتھ وہ خود بھی موجود تھیں ( اعظم ہوتی نے ان کی موجودگی کا ذکر نہیں کیا ) میں نے پھر پوچھا کہ کیا واقعی اسفندیار ولی خان بطور ایک مجرم اقبالی بیان دے رہے تھے اور سنگین ولی خان نے ان پر چارج شیٹ لگائی تھی تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں ، اور مجھ سے پوچھا کہ’’ تمہی کہو کیا یہ ممکن ہے؟اسفندیار خان اس موقع پر نہیں تھے‘‘۔اتنے میں پیچھے سے آوازسنائی دی کہ اسفندیار خان موجود تھے ، پھر بی بی کو بھی اس کی تائید کرنی پڑی-

بہرحال یہ ایسا چھوٹا واقعہ نہیں تھا ، رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی بیگم نسیم ولی خان کے بارے میں حساسیت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ، ان کے حوالے سے رہبر تحریک نے اپنی خود نوشت کی دوسری جلد میں ان کے سیاسی قدکاٹھ اور سمجھ بوجھ کی جو تعریف کی ہے اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ رہبر کے نزدیک محترمہ بیگم نسیم ولی خان کی کیا حیثیت تھی ، خان عبدالولی خانؒ ایسی کسی حرکت کو معاف نہ کرتے ، چہ جائیکہ بطور انعام مبینہ اقبالی مجرم کو پارٹی کا مرکزی صدر بنا دیتے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسفندیار ولی خان نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی جانب سے خان عبدالولی خان کو علاج کے لئے دئے گئے پچاس لاکھ روپے ہتھیا لئے ، اور رہبر تحریک نے بطور گلہ یہ بات اعظم ہوتی سے کہی کہ آپ ایک ایسے شخص کو پارٹی کا صدر بنانا چاہتے ہیں جو رہبر کو فروخت کرنے میں تأمل سے کام نہیں لیتا قوم فروشی میں تو وہ کوئی تاخیر نہیں کرے گا - 

اعظم ہوتی کا یہ الزام خان عبدالولی خان کی ذات پر ایسی تہمت ہے جس کی مذمت بطریق احسن کرنے کے لئے اردو میں الفاظ نہیں اور پشتو میں جو کچھ لکھنے کی آرزو ہے تہذیب اس کی اجازت نہیں دیتی ، رہبرتحریکؒ نے پاکستانی سیاست کے اس غلیظ جوہڑ میں ایسی پاک زندگی گزاری ہے کہ ایک چھینٹ بھی ان کے دامن پر نہیں ، اسی لئے ان کے مخالفین بھی انہیں زندہ ولی قرار دیتے تھے - عطیات ، عہدے اور مراعات قبول کرنا ہوتے تو کوئی مارا ماری ہی نہ ہوتی ، رہبر آرام سے پاکستان کے وزیراعظم 1960ء کے عشرے میں بن چکے ہوتے ، جنرل ضیاع کے عہد میں بھی وزیر اعظم ہوتے لیکن یہ ’’شان ولایت‘‘ کے خلاف باتیں ہیں - رہبر اپنے نام پر لئے جانے والے پیسوں پر خاموش رہ ہی نہیں سکتے تھے- اعظم ہوتی کے اس الزام سے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ رہبر کے بالکل بھی قریب نہیں رہے - 

خان عبدالولی خانؒ دیانت داری اور کرداری عظمت پر جان نچھاور کرنے والی ہستی تھیں ، "باچاخان او خدائی خدمتگاری" جلد دوم صفحہ 442سے شروع کیجئے اور پڑھئے کہ مولانا بھاشانی کے حوالے سے جب ذوالفقار علی بھٹو نے خان عبدالولی خان کو یہ بتایا کہ وہ ایوب اور فاطمہ جناح کے الیکشن میں صدر ایوب سے پیسے کھاتے رہے تھے تو انہوں نے ایک لمحہ تاخیر کئے بغیر شمالی بنگال کے گاؤں پنج بی بی کا رخ کیا اور اپنے ساتھ ارباب سکندر خان خلیل شہید اور محمود علی قصوری کو بھی لے گئے ، اور انہیں بھٹو کے روبرو ہونے کا کہا جس پر مولانا بھاشانی نے ان کے پیر پکڑ لئے لیکن رہبر نے اس چھوٹی حرکت پر انہیں معاف نہیں کیا ، وہ جب مولانا بھاشانی جیسی شخصیت کو معاف کرنے پر تیار نہیں تھے تو اسفندیار ولی خان سے انہوں نے اس لئے کچھ تعرض نہیں کیا کہ وہ ان کے بیٹے تھے؟َیہ الزام رہبر پر ہے یا اسفندیار ولی خان پر ؟

اعظم ہوتی یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ 1994ء کی بات ہے- اسفندیار ولی خان 1999میں پہلی مرتبہ پارٹی کے صدر بنے تھے یعنی پانچ سال بعد بھی ان دو دردناک واقعات کے باوجود اسفندیار ولی خان کی صدارت کڑوے گھونٹ کی طرح قبول کر لی گئی اور یہ کڑوا گھونٹ صرف اعظم ہوتی کے کہنے پر رہبر تحریک نے بادل نخواستہ حلق سے اتارا ؟اب اس بات پر کون یقین کرسکتا ہے ، کہ اس کڑوے گھونٹ کے بعد 2003ء میں دوبارہ رہبر تحریک کو کڑوا گھونٹ پینا پڑ گیا جب اسفندیار ولی خان دوسری مدت کے لئے پارٹی کے صدر بنے -

خان عبدالولی خانؒ کے ناقدین و پیروکار دونوں اس بات کی گواہی دینے کے لئے تیار ہیں کہ انہوں نے کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا ان کی تمام سیاست کی بنیاد ہی اس بات پر تھی کہ انہیں موت قبول تھی لیکن جھکنا ان کی کتاب میں نہیں تھا لیکن افسوس کہ اعظم ہوتی نے اسفندیار ولی خان کے خلاف اپنے تعصب کے اظہار میں نہایت ہی بودی گندی اور ناقابل اعتبار باتیں کہیں- 

ہم نے کئی خدائی خدمت گاروں کی یہ عادت نوٹ کی ہے کہ وہ جب باچاخانؒ کے ساتھ اپنے تعلق کی گہرائی بیان کرتے تھے تو اپنی شہادت اور درمیانی انگلی کو یکجا کر کے کہتے کہ میں اور باچا خانؒ ایسے جار ہے تھے ، اعظم ہوتی کو تو خدائی خدمتگاری کا کوئی موقع نصیب نہیں ہوا کہ وہ اپنے والد کی وفات کے وقت فقط گیارہ سال کے تھے اور یہ 1957ء کی بات ہے تاہم رہبر تحریک کے ساتھ اپنی قربت انہوں نے کچھ اسی انداز میں بیان کی اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ دو فیصلے ایسے تھے کہ جن میں وہ شامل نہیں تھے ، پہلا فیصلہ مسلم لیگ کے ساتھ اتحاد کے خاتمے کا تھا اور دوسرا فیصلہ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد کی پریس کانفرنس کا تھا، کہتے ہیں کہ پہلے فیصلے کے وقت وہ تاخیر سے پہنچے تھے اور دوسرے کا تو انہیں پتہ ہی نہیں تھا - 

اب اس صریح دروغ گوئی کاکیا نام رکھا جائے ؟ان کے خیال میں لوگوں کی یاداشت اتنی کمزور ہے وہ بھول گئے کہ اعظم ہوتی اس اتحاد کے خاتمے کے خلاف تھے ، انہوں نے کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا تھا لیکن ان کی رائے کو مستر د کردیا گیا تھا ، وہ اتحاد کے خاتمے کے بعد بھی وزارت کے مزے لوٹنے روزانہ دفتر جاتے تھے اس بات کا انکشاف اخبارات میں ہوا اور پارٹی نے ان کی سر زنش کی تو انہوں نے کھمبا نوچتے ہوئے کھسیانے کو ترجیح دی - 

دوسرا فیصلہ یعنی رہبرتحریک کی نائن الیون کے بعد کی پریس کانفرنس کے حوالے سے بھی انہوں نے حد درجہ دروغ گوئی سے کام لیا۔ چارجون 2013 کو پشاور میں منعقدہ پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ اس پریس کانفرنس سے قبل رہبر نے ان سے مشورہ کیا تھا اور ان کے مشورے کو شایان شان طور پر مستر د کردیا گیا تھا، گویا ان کی ایسی کوئی قربت رہبر تحریکؒ کے ساتھ نہیں تھی جس کی بنیاد پر ان کی باتوں کو سچ مان لیا جائے ۔ نواز شریف کے ساتھ ان کی قربت یا نیاز مندی کا احوال بھی واقفانِ حال کو معلوم ہے ، نواز شریف کی اس فون کال کا ذکر ضروری ہے جب انہوں نے 1997ء میں وزیر اعظم بننے کے بعد رہبرتحریک کو فون کرکے کہا تھاکہ اعظم ہوتی کے سوا کسی کوبھی آپ وزیر بنوا دیں۔ وہ تو اعظم ہوتی کو اپنی کابینہ میں شامل کرنے کے روادار نہیں تھے ، نیازمندی اور قربت کہاں سے آگئی ؟

اسفندیار ولی خان کے بارے میں ولی باغ کے اردگرد ایک قصہ مشہور ہے ۔ کہتے ہیں کہ رہبر تحریک نے اپنی زندگی میں ولی باغ کی تقسیم کر دی تھی اور اس میں اسفندیار ولی خان کا حصہ ناقابل یقین حد تک کم رکھا ، اس پر ایک بیٹے کا اپنے والد سے گلہ فطری ہے چنانچہ اسفندیار ولی خان نے رہبرتحریک سے اس بے نوازی کی وجہ پوچھی تو خان عبدالولی خانؒ نے نہایت ہی تاریخ ساز جواب دیا اور کہا’’میرے بیٹے یہ زمینیں جائیدادیں عارضی چیزیں ہیں ، تمہیں میں ایک ایسی چیز دوں گا جو کبھی ختم نہیں ہوگی اور نہ ہی کوئی تم سے چھین سکے گا بلکہ اس میں اضافہ ہی ہوتا رہے گا‘‘۔ سو اعظم ہوتی اور ان کے ہمخیالوں کے لئے یہ بات کافی ہے ۔وہ چیزباچاخان اور خان عبدالولی خان کی کرشماتی شخصیتوں کی سیاسی و عوامی وراثت تھی وہ محبوبیت تھی جو ان دو بزرگوں کو نصیب ہوئی اور رہبرتحریکؒ جاتے جاتے وہ سب کچھ اسفندیار ولی خان کو سونپ گئے ۔ جو نہ کم ہوگی جو نہ عارضی ہے اور سب سے بڑی بات وہ کوئی چھین بھی نہیں سکتا ۔ اسے تجزیہ ہی نہیں چیلنج بھی سمجھا جائے ۔ 

Tuesday, 21 May 2013


عوامی نیشنل پارٹی کی شکست ۔چند معروضات
زلان مومند
 

مسیح الافاغنہ باچاخانؒ کے ایک پیرو کار کی حیثیت سے عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی شکست کو روزمرہ کی دیگر ناکامیوں اور ناآسودہ خواہشات کے سلسلے کی ایک کڑی کہنا نہایت ہی دشوار ہے ، اگرچہ ایک نہایت ہی قلیل ، غیر نمائندہ مگر مؤثر پختون قوم پرستوں کی ایک تعداد عوامی نیشنل پارٹی سمیت کسی بھی پختون قوم پرست سیاسی جماعت کی انتخابی عمل میں شرکت کو غداری اور پختونوں کی غلامی یا سیاسی حقوق سے محرومی کے سلسلے کو دوام دینے کی کوشش سمجھتی ہے لیکن اس بات پر بہر حال بحث کی گنجائش موجود ہے اور متبادلات کی عدم دستیابی کو اس ساری بحث میں مرکزی نکتے کی حیثیت بھی حاصل رہے گی تاهم سر دست موضوع انتخابی عمل میں شرکت یا عدم شرکت نہیں بلکہ ان عوامل کا جائزہ لینا ہے جن کی وجہ سے اے این پی کو انتخابات میں ایک ایسی شکست ہوئی جس نے اے این پی کے ہر کارکن کو بطور خاص اور پختون قوم پرستوں کے ہر گروہ کو دلی رنج سے دوچا ر کیا ، پہلی بات یہ ہے کہ صوبہ پختونخوا میں تحریک انصاف کو حاصل ہونے والا مینڈیٹ سو فیصد حقیقی نہیں ، انتخابی بے ضابطگیوں سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوتی ہے کہ اس صوبے میں انتخابات کی شفافیت رائے دہندگان کی سوفیصد سے بھی زیادہ شمولیت کی دلیل سے ایک سوالیہ نشان بن کر سامنے آئی ہے ۔انتخابی عمل کی شفافیت جاننے کے لئے فافن نامی ادارے نے جو رپورٹ اوائل میں دی تھی اس کی شہادت کے لئے کسی برهان کی ضرورت قطعی نہیں ، این اے ون کی نشست پر ایک پولنگ سٹیشن کے پریزائیڈنگ افسر نے اس حوالے سے خود ہمیں بتایا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ نتائج دینے کے روایتی طریق کار کی تبدیلی بھی ایک ایسی شکایت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ،پولنگ ایجنٹس کو تصدیق شدہ انتخابی نتائج دینا پریزائیڈنگ افسر کی ذمہ داری اور مسلمہ انتخابی اصول ہے لیکن بعض"حکمتوں" کے پیش نظر تصدیق شدہ نتائج دینے سے صاف انکار کیا گیا ، پاکستان کی تاریخ میں اس انتخابات کی شفافیت اس حوالے سے بھی متنازعہ رہے گی کہ ان انتخابات میں کئی حلقو ں میں رات کو جیتنے والے امیدوار صبح ہار گئے تھے ، لیکن ان تمام امور کے باوجود اے این پی کی قیادت نے تحریک انصاف کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا ، اور ان کے حکومت سازی کے حق کے خلاف جے یو آئی (ف) کی کاوشوں کو غیر جمہوری عمل قرار دیا ، انتخابات میں تحریک انصاف کے اس درجہ پر کامیابی شکوک و شبہات سے خالی نہیں ، جن علاقوں میں تحریک انصاف نے قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستیں جیتیں وہاں پر تحریک انصاف کی انتخابی مہم کا خاصہ یعنی عمران خان کا جلسہ شاذ ہی منعقد ہوا، انہ ہی ان علاقوں میں سیٹلائٹ ٹی وی چینلز دیکھنے کی سہولت تھی جن میں نماز پڑھتے ہوئے عمران خان کی پاکبازی کے اشتہارات چلائے جاسکتے ۔گویا تحریک انصاف کا پیغام نجانے کس انجانے طریقے سے وہاں پہنچا ؟اس کا جواب کسی کے پاس بھی نہیں ۔ین اے ون جہاں سے وہ خود کھڑے تھے وہاں پر انہوں نے جس قسم کی اکثریت لی وہ شبہات کو تقویت دیتی ہے ، باخبر لوگ جانتے ہیں کہ صوبہ پختونخوا دراصل پاکستان کے طبقۂ اشرافیہ کی انتخابی لیبارٹری ہے ، یہاں سو فیصد آزادانہ و منصفانہ انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ،ویسے بھی پختونخوا اور بلوچستان کے انتخابی نتائج کو ایک نظر دیکھنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستان میں اپنی قیادت چننے کا اختیار صرف سندھ اور پنجاب کے عوام کو ہی حاصل ہے ، انتخابی عمل میں ہونے والی بے قاعدگیوں کے باوجود بھی عوامی نیشنل پارٹی کے ہارنے کے عوامل بہر حال موجود ہیں اور جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ، ان انتخابات میں ایک تو وہ سیاسی جماعتیں عوامی تائید حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں جو گزشتہ پانچ سال سے حزب اختلاف میں تھیں ، پاکستان کی حزب اختلاف کی تمام جماعتیں چاہے وہ کوئی بھی ہوں اس درجہ بالغ فکری کی حامل نہیں رہیں کہ وہ حکومت کے کسی اچھے کام کی تعریف کریں ، اخبارات میں یہ تجزئے بھی شائع ہوئے کہ اے این پی کو ناقص کارکردگی اور کرپشن کی سزا ملی ، یا یہ کہ پانچ برسوں میں اے این پی کسی قسم کی بہتر انتظامی صلاحیتیں نہ دکھا سکی ، کاش انتخابی نتائج کے سوا بھی اس تجزئے کا کوئی ثبوت ہوتا ، اگرچہ بدانتظامی ، کرپشن اور عدم کارکردگی ایک نہایت ہی عام الزام ہے لیکن اس کا اطلاق ہارنے والی سیاسی جماعتوں پر ہی کیا جاتا ہے ، پنجاب میں اربوں روپے تندوروں میں جھونکنے والی مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی معاشی بدانتظامی اور سٹیٹ بینک سے اوور ڈرافٹ لینے کی داستانیں اب کسی کو بھی یاد نہیں ، کیونکہ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں سپریم کورٹ کا کہنا یہ ہے کہ ہر کامیاب فوجی بغاوت کو انقلاب سمجھا جائے ، سو یہاں کے تجزیہ کار اور جغادری نقادبھی اسی اصول کی پیروی کو ضروری سمجھتے ہیں اور عقل و دانش کے بانس پر چڑھ کر صرف انہی سیاسی جماعتوں کو کرپٹ ، بدانتظام اور ناقص کارکردگی کی حامل سمجھتے ہیں جو انتخابات میں نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں ، اگر مسلم لیگ (ن) پنجاب اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ گزشتہ پانچ برسوں میں پنجاب میں سب کچھ مثالی رہا ، دوسری اہم بات جسے اے این پی کی انتخابی کارکردگی کے جائزے کے دوران فراموش نہیں کرنا چاہئے یہ ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے ورکروں اور لیڈروں کو انتخابات لڑنے کے وہی مواقع میسر نہیں تھے جو جیتنے والی سیاسی جماعتوں کو بہر حال میسر تھے ، اور جن کے لئے این آر او جاری کردیا گیا تھا ، طالبان کی جانب سے اے این پی کے جلسوں میں بم دھماکے ٹارگٹ کلنگ اور دھمکیوں کے واقعات کی تعداد اتنی ہے کہ اسے صرف 31کے عدد میں بیان کرنا انصاف نہیں ، یہ حقیقت ہے کہ اے این پی کے تمام فعال کارکنوں یا ان کے رشتہ داروں کو کسی نہ کسی طرح خوف و دہشت کا نشانہ بنایا گیا ، قبل ازانتخابات اس قسم کی دھاندلی کو اے این پی کی انتخابی شکست میں کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ، مسلم لیگ (ن) تحریک انصاف ، جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی کے قائدین پختونوں کی سرزمین پر دھڑلے سے جلسے منعقد کرتے رہے لیکن عوامی نیشنل پارٹی کی صف دوم کی قیادت کو بھی یہ سہولت میسر نہیں تھی۔ہمارے نہایت ہی سینئر ترین تجزیہ کار اپنی گرانقدر تحاریر میں یہ بات بھی لکھتے رہے کہ اے این پی کو امریکہ کی طرف جھکاؤ کے باعث یہ دن دیکھنا پڑا ، اے این پی کے شکست کے دلائل میں سے یہ ایک کاری دلیل کے طور پر میڈیا کے مختلف ذرائع میں بیان کی گئی ، لیکن ایک مرتبہ بھی ان پالیسیوں کی وضاحت نہیں کی گئی جو امریکہ کی طرف جھکاؤ کا اظہار کرتی رہیں ، ہاں البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اے این پی نے امریکہ کے خلاف اعلان جہاد نہیں کیا تھا ، اگر اس سے اتفاق کر لیا جائے تو یہ سوال لازماً پوچھنا چاہئے کہ امریکہ کے خلاف اعلان جہاد کس سیاسی جماعت نے کیا تھا؟نائن الیون کے بعد جو بین الاقوامی سیاسی ماحول بنا ہے اس میں اس لفظ کا استعمال تو ان مذہبی جماعتوں نے بھی ترک کردیا ہے جو پاکستان کی تمام تر خرابیوں کی ذمہ دار امریکی حکومتوں کو سمجھتی رہی ہیں ، اگر طالبان کے خلاف سوات کے آپریشن کو امریکہ کی طرف جھکاؤ سمجھا گیا تو اس کا براہ راست الزام پاکستان کی افواج پر کیوں عائد نہیں کیا جاتا ؟ابھی حال ہی میں برسلز میں پاکستان ، افغانستان اور امریکہ کی اصل قیادت کے اکٹھ کے بعد بھی کسی تجزیہ کار نے امریکی پالیسیوں کی طرف جھکاؤ کی اصل ذمہ دار کی نشاندہی نہیں کی ، اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان کے ایک صوبے کی سیاسی جماعت کب اس درجہ بااختیار بنی ہے کہ وہ خارجہ پالیسی کے حوالے سے اپنا الگ ہی مؤقف رکھے بھی اور پھر اسے نافذ بھی کرے ، یہاں تو پارلیمنٹ کی دو بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی‘‘ آزاد’’  خارجہ پالیسی کی دہائیاں دے رہی ہے ، یہی نہیں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف جیسی جماعتیں بھی خارجہ پالیسی کی ‘‘آزادی’’  کی ‘‘جدوجہد’’ کر رہی ہیں لیکن اس حوالے سے کوئی ٹھوس نکتہ سامنے رکھنے میں ناکام رہی ہیں کہ آخر خارجہ پالیسی کو قید یا غلام کس نے بنایا ہے ؟امریکی پالیسیوں کی طرف جھکاؤ کا الزام یا منطق اگر کسی بھی طور صحیح مان لیا جائے تو یہ بات تو طے ہے ہی کہ 2014ء کا سال اس خطے میں امریکہ کے لئے کیا اہمیت رکھتا ہے کیا وہ 2014ء میں اپنی ‘‘حلیف’’  سیاسی جماعت کو ملکی فیصلوں سے اس قدر لا تعلق رکھنے کی غلطی کر سکتا ہے ؟اور وہ بھی ایک ایسے ملک میں جہاں اس کے اثر ورسوخ کا ہر تجزیہ کار گواہ ہے ۔ان حالات میں اگر کوئی رائے اے این پی کی شکست کے حوالے سے بنتی ہے تو وہ یہی ہے کہ جو لوگ ناز و نعم کے پالے تھے اور جن کی سرپرستی حقیقی مقتدر قوتیں کر رہی تھیں اور جنہوں نے پختون سرزمین کو آتش و آہن کا غسل دیا ان کے حقیقی مخالفین یعنی اے این پی کو سزادی جائے ، ڈبل گیم کھیلنے والے اس بات کو کیسے فراموش کر سکتے ہیں کہ اے این پی نے اس صوبے اور خصوصاً افغانستان کے حوالے سے ان کے تمام ارادوں کو تاخت و تاراج کر کے رکھ دیاتھا ، یہی نہیں بلکہ ان بدمستوں کو بھی نکیل ڈال دی تھی جو پنجاب میں تباہ کاریوں کی خاطر محفوظ راستہ مانگ رہے تھے ،گو یا اے این پی کو شکست تحریک انصاف نے نہیں دی بلکہ‘‘نامعلوم افراد’’  نے دی ہے ، اس میں بھی ایک نکتہ بہرحال لائق توجہ ہے کہ ان نتائج کے مرتب کنندگان اس امر سے واقف تھے کہ وہ یہ صوبہ کلی طور پر پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ (ن) ، جماعت اسلامی اور جے یو آئی (ف) کی جھولی میں نہیں ڈال سکتے ،نه هی مستقبل ایسا کوئی امکان رکهتا هے کیونکہ ان ساری جماعتوں کا ووٹ بینک معلوم افراد کا ہے نامعلوم کا کسی طور نہیں ، یہ صوبہ تکنیکی طور پر تحریک انصاف کی جھولی میں گرا ہے ایسے ایسے اضلاع سے تحریک انصاف کو ہزاروں کی تعداد میں ووٹ پڑے ہیں جہاں تحریک انصاف کی تنظیم تک کا وجود نہیں ، بہرحال ضمنی انتخابات سے یہ بات بطریق احسن واضح ہو جائے گی کہ اس مینڈیٹ میں صناعت کتنی برتی گئی ہے حاصل کلام  یہ ہے کہ اے این پی کی شکست اور تحریک انصاف کی فتح میں نوجوانوں کے ووٹ سے زیادہ ‘‘جوانوں’’ کے اثر ورسوخ نے بنیادی کردار ادا کیا ہے ، اور ہمیں معروف صحافی سہیل وڑائچ کے اس تبصرے سے کلی طور پر اتفاق ہے کہ یہ انتخابات مستقبل کے کسی بھی حوالے کے لئے غیر متعلق ٹھہریں گے اس استثنیٰ کے ساتھ کے ان انتخابات کے بعد پنجاب کا دروازہ تحریک انصاف پر ہمیشہ کے لئے بند ہوجائے گا۔

Sunday, 14 October 2012

آج کچھ درد مرے دل ميں سوا هوتاهے



همارے ممدوح محترم ڈاکٹر صلاح الدين صاحب ايک نهايت هي قابلِ محبت هستى هيں ، ان کي ذات بابرکات کي صفات کے حوالے سے لکھنا شروع کيا جائے  تو بلامبالغه ايک کتاب تو لکھي هي جاسکتي هے،وه دوستوں کے دوست هيں ، انهي کے ممدوح مبينه فلسفي شاعر ڈاکٹر محمد اقبال نے مؤمن کي تعريف کرتے هوئے جب يه کها تھا که هو حلقهٔ ياراں تو بريشم کي طرح نرم تو يه شايد جناب صلاح الدين صاحب جيسي هي کسي شخصيت  کے بارے ميں کها تھا ، ايک فرض شناس معالج هيں ، بهت سارے معالجين سےمريض بات کرتے هوئے بھي گھبراتے هيں ليکن جناب ڈاکٹر صلاح الدين صاحب کي ذات کي شفقت ان کے لهجے کي مٹھاس ، طبعي همدردي  اور شخصيت کي جاذبيت کا نتيجه هے که هر مريض ان سے اپنے مسائل  و امراض کے حوالے سے کھل کر بات کرسکتا هے ،جيسا که ان سطور کے آغاز ميں کها گيا تھا که جناب ڈاکٹر صاحب کي شخصيت ايسي گوناگوني لئے هوئے هے که ان پر کتاب لکھي جاسکتي هے ، اس لئے مجھے انديشه هے که يه چند سطور مذکوره موضوع پر کسي ضخيم کتاب هي ميں نه ڈھل جائے ، ان کا ذکر خىر ان کي ايک تحرير کي وجه سے ضروري هو گيا تھا (ويسے رهتےتو وه همارے دل ميں هيں ) ،منگل 11ستمبر 2012ء کے روزنامه آج پشاور ميں ان کے ايک کالم نے ايسا ظلم و جبر ڈھايا که قلم کو کان پر رکھ کر گھر سے نکلنے کے سوا کوئي راسته باقي نهيں بچا ، انهوں نے اپنے کالم ميں جناح صاحب کي تصوير کے بارے ميں جن احترامات فراواں کي سرعت ميں اضافه کيا ان سے هميں کوئي اختلاف نهيں کيونکه يه هر شخص کا ذاتي معامله هے ، کسي سے بھي تعلق خاطر کي شدت کا انحصار تصورات و حقائق کي بنياد پر پروان چڑھتا هے ، ان کے علم ميں شايد وه حقائق و تصورات بهر حال موجود هيں جو همارے علم ميں نهيں ، يا جن کے معروضي شواهد کھلي مارکيٹ ميں دستياب نهيں ، ليکن جهاں تک باچاخان اور ان کے ساتھيوں کے بارے ميں اس کالم کے مندرجات کا  تعلق هے وه همارے لئے ان دو بنيادي وجوه کي اساس پر محل نظر هيں يعني تصورات و حقائق .اس بات کي تو وجه نامعلوم هي هے که جناح صاحب کي رومانويت ميں اس ملک کے اهل علم کيوں مبتلا هيں ؟آج تک کسي نے اس رومانويت سے بري النظر هو کر حقائق کي کسوٹي پر جناح صاحب کي شخصيت اور ان کي سياست کا تجزيه کرنے کي ضرورت محسوس نهيں کي ، ليکن يه کوئي بڑا الميه نهيں ، اگر کسي کو اس کے حق سے زياده ملے تو اس پر ساري عمر گريه و زاري سے کچھ حاصل نهيں هوگا ليکن اگر کسي کو اس کے حق سے کم ملے يا اس کا حق اٹھا کر کسي اور کي گود ميں ڈال ديا جائے تو لازمي طور پر دکھ هوتا هے اور ايسا سلوک اگر کسي معاشرے کے اهليان علم بالعقيده شروع کرديں تو پھر تو اس دکھ اور الميے کي شدت انتهاؤں سےدوچار هوجاتي هے – 



آج اگر پاکستان کي وزارت شماريات کے اعداد وشمار کے مطابق ملک کي دوسري بڑي زبان پشتو کے بولنے والوں کي اکثريت سماجي يا سياسي طور پر اس ملک سے خود کو کٹا هوا محسوس کرتے هيں تو اس کي وجه بھي يهي هے – جناب ڈاکٹر صاحب ممدوح کے کالم کے مختلف نکات قابل بحث هيں کيونکه ان ميں سے اکثريت کي حيثيت يا تو حکمي تنقيد کي هے اور يا وه فتاويٰ کا درجه رکھتے هيں ، ان کے مضمون کا نچوڑ يه هے که عوامي نيشنل پارٹي کے وزراء کے دفاتر ميں جناح صاحب کي تصاوير کي تضحيک کا عمل جاري هے ، اس بات کے ثبوت کے طور پر وه پهلے يه کهتے هيں که عوامي نيشنل پارٹي نے تاريخي طور پر پاکستان کو دل سے تسليم نهيں کيا ، پھر وه يه بھي کهتے هيں که اے اين پي کے جن وزرا ء نے يه تصاوير لگائي هيں انهوں نے بھي بادل ناخواسته وزارتي حيثيت کي مجبوري کے تحت ايسا کيا هے – پهلي بات تو يه هے که عوامي نيشنل پارٹي کے قائدين  و کارکنوں کي دل کي بات جناب ڈاکٹر صاحب ان کے هم خيال حتيٰ که جناح صاحب  اور ان کا ٹائپ رائٹر (مسلم ليگ کے لئے جناح صاحب نے اسکندر مرزا کے بقول يهي لفظ استعمال کيا تھا)کبھي جان نهيں سکے ، اس ملک کے لئے هر طرح کي قربانياں دينے کے باوجود اب بھي همارے ڈاکٹر صاحب اے اين پي کو حب الوطني کا سرٹيفيکيٹ جاري کرنے کے حق ميں نهيں، يهاں مثالوں کى ضرورت نهيں ، که اس سےپڑھنے والے اکتا جائيں گے ، ليکن ايوب خان کي آمريت اور ون يونٹ کے ناسور کو اس کے خالق سميت جڑ سے اکھاڑ پھينکنے کي راه ميں جن رياستي شدائد سے اس جماعت کے اکابرين گزرے وه تاريخ کا حصه هيں ، محترمه فاطمه جناح کو صدارتي اميدوار نامزد کرنے کے باوجود نيپ ايک غدار سياسي جماعت بني اسي لئے تو سپريم کورٹ نے اسے کالعدم قرار ديا ، 1973ء کے آئين کو متفقه کهتے هوئے کسي کي زبان نهيں تھکتي ليکن کوئي اس بات کے کهنے کي ضرورت هي محسوس نهيں کرتا که اس وقت کے قائد حزب اختلاف خان عبدالولي خان مرحوم اگر نه مانتے تو آج اس ملک کي کيا حالت هوتي اور کيا اس آئين کا کوئي وجود بھي هوتا؟



خدائي خدمتگار وں ، نيپ اور اے اين پي نے پاکستان کو دل سے تسليم نهيں کيا مسلم ليگ اور نوائے وقت کي مشترکه تخليق کرده جملے کي صحت پر اشرافيه اور اس کي متاثره جميعت عوام پاکستان کو کيا اعتراض هوسکتا هے ليکن اس حقيقت کو کس تکئے تلے چھپا ديا جائے که جب12 مئي  2007ء ميں افتخار چودھري کراچي آرها تھا تو عدليه کي آزادي کے مغالطے ميں اے اين پي کے 42کارکن زندگي کو کراچي کي سڑکوں پر ايسے نچھاور کر گئے جيسے اے اين پي پاکستان کو دل سے نهيں دل وجان سے مانتي هے اور اس کے تحفظ لئے کسي بھي حد تک جانے کو تيار هے – کسي کے دل کي بات جاننا بهت بڑا هنر هے ، اس سے کس کو انکار هوسکتا هے – ليکن جناب ڈاکٹر صاحب نے ايک خاص خيال سے متاثر هو کر اس جملے کے استعمال کے وقت اس قرآني تعليم کو بھي ملحوظ خاطر نهيں رکھا که ان بعض ظن اثم – بادل ناخواسته تصاوير لگانے کي بات عجيب هے، پاکستان کے سرکاري ايوانوں ميں باچاخان اور ان کے ديگر ساتھيوں کي تصاوير صرف چار ساڑھے چار سال هي لگي رهي هيں ، اس سے قبل تو جناح صاحب کي نماياں تصاوير هر سرکاري عمارت کا جزو لاينفک رهي هيں ، اور حکومت بھي زياده تر پي ايم ايل (پاکستان مسلم ليگ ، پاکستان مارشل لاء ) کي رهي هے جناح صاحب کي يه تصوير تو پي ايم ايل کے ان دونوں دھڑوں نے رومانويت سے اٹے هوئے جذبات کي رو ميں لگا رکھي تھيں ، اور کيا هي خيال انهوں نے اس تصوير کا رکھا، کيا مثال دي جائے ، کيا موجوده حالات سے بڑھ کر کوئي مثال کوئي دليل سي جاسکتي هے؟کيا جناح صاحب کي تصوير کو دل وجان سے لگانے والوں نے اس تصوير کے نيچے بيٹھ کر اس ملک کي تقدير بدل دي تھي ؟جو باچاخان اور ان کے ساتھيوں کي تصاوير لگا کر چار ساڑھے چار برسوں ميں تيا پانچا کردي؟جناب ڈاکٹر صاحب کهتے هيں که جناح صاحب کي جو تصاوير صوبائي وزرا ء کے دفاتر ميں لگائي گئي هيں ان ميں اس بات کا خاص انتظام کيا گيا هے که ايسي تصاوير لگائي جائيں که جن ميں جناح صاحب نے قومي لباس کي بجائے انگريزي لباس پهنا هو– اب اس پر کيا کها جائے ؟پهلا سوال تو يه هے که پاکستان کا قومي لباس کيا هے ؟اگر شلوار قميص واسکٹ کي بات کي جائےتو يه تو پختونوں کا لباس هے – اچکن تو لکھنو يوپي هند سے آئي هے ، چولي دامن کے انگرکھا کو پاکستان ميں کتنے لوگ پهنتے هيں شايد ايک رجسٹر ميں سب کا اندراج هوسکتا هے ، هاں يه سوال قابل غور هے که( جناح صاحب جن کي پوري زندگي يورپ ميں گزري اور جن کا سرکاري سوانح نگار سٹينلے والپرٹ بھي اس امر کي گواهي ديتا هے که ان کا طرز معاشرت اٹھارويں صدي کے ٹھيٹھ انگريزوں جيسا تھا) کس سن ميں شلوار قميص پهنا کرتے تھے ؟ايک لمحے کو يه بات  مان ليں که اے اين پي کے وزراء کے دفاتر ميں جناح صاحب کے انگريزي ملبوس ميں تصاوير خاص سازش کے تحت لگائي گئي هيں تو يه سوال پھر منه چڑانے کو سامنے آجاتا هے که ملک کے ابتدائي برسوں سے سن دو هزار کے پانچويں چھٹے برس تک پانچ، دس ، پچاس ، سو ، پانچ سو اور ايک هزار روپے کے کرنسي نوٹ پر جناح صاحب کي انگريزي ملبوس ميں تصوير اے اين پي کے کس قائد کي کاوشوں کا نتيجه رهي ؟اور يه جو محمد خان جونيجو مرحوم کے دور ميں تعمير هونے والي پارليمان کي عمارت ميں سپيکر قومي اسمبلي اور چيئرمين سينيٹ کي نشست کے عين پيچھے جو جناح صاحب تھري پيس سوٹ ميں ايک مها جهازي سائز کي تصوير ميں مسکرا رهے هيں يه وصيت اے اين پي کے کس ليڈر کي پوري کي گئي هے ، کيا رياستي اداروں کو اس خاص حوالے سے وه بصيرت حاصل نهيں جس کے همارے ڈاکٹر صاحب تن تنها مالک هيں ؟ايک اور بات جناب ڈاکٹر صاحب نے يه بھي کهي هے که جناح صاحب کي تصوير کے ساتھ ايسا سلوک کے ارتکاب کا مقصد "ملکي اساس کي بنيادوں"پر ضرب لگانا هے ، اس کي انشاء ميں روا رکھي گئي غلطي دراصل ايک واقعاتي غلطي بھي هے ، جناح صاحب اس ملک کي بنياد کيسے هيں؟کيا تعزيرات پاکستان يا آئين سے ايسي کوئي دليل پيش کي جاسکتي هے ؟ان کي تعظيم کا مسئله ايک طرف ليکن ان کي تصوير کو مؤمن به کا درجه دينا  اور ايسي تصاوير کو اساس و بنياد کهنا کهاں سے ثابت هے ؟



پھر جناب ڈاکٹر صاحب يه بھي فرماتے هيں که قيام پاکستان کے بعد مذهبي جماعتوں نے اپنے اقدامات سے کبھي جناح صاحب کي اهميت گھٹانے کي کوشش نهيں کي ، اس سے اس دعوے کي صداقت تو ثابت نهيں هوتي ليکن مذهبي جماعتوں کي طرف جناب ڈاکٹر صاحب کے نرم گوشے کي وضاحت هوتي هے ، خدائي خدمت گاروں نے جناح صاحب کي سياسي مخالفت کي تھي جو ان کا حق تھا اور هے کوئي يه بات کهه نهيں سکتا که جناب جناح صاحب پر خدائي خدمت گاروں کے اکابرين نے کفر کا فتويٰ لگايا هو اور ان کے مذهب و مسلک کے حوالے سے کوئي بات کي هو، تو مذهبي جماعتوں يا ايم کيو ايم سے رجوع کيا جائے يه ايک الگ بحث هے اور مسلم ليگ اور جناح صاحب کے بارے ميں مذهبي جماعتوں کے اقدامات ما بعد تخليق پاکستان بھي اس تعداد ميں هيں که ايسے کئي صفحات بھر سکتے هيں ، اور جهاں تک پاکستان کا مطلب کيا لااله الاالله والے جلوسوں کي قيادت کي بات هے تو ان ميں جناب جوگندر ناتھ منڈل بھي موجود رهے هيں اور اسے کسي برهان قاطع کے طور پر قبول نهيں کيا جاسکتا ، ليکن اس حوالے سے ڈاکٹر صاحب کي بات قابل اتفاق هے که جناح صاحب کا مذهب ان کا اور ان کے الله کا معامله هے ،تاهم انهيں ايک ايسے جلوس کا حواله دينا چاهئے تھا جس ميں يه بينر يا نعرے لگے اور جناح صاحب اس کي قيادت کررهے تھے ( جلوس هي کا حواله درکار هے جلسے کا نهيں) بهر حال اس بات کا حواله جناب ڈاکٹر صاحب کو دينا چاهئے که پاکستان کا جھنڈا لهرانے پر حکمران جماعت کے کون کون سے افراد جزبز هوئے تھے اور صوبائي وزرا ء کي سر زنش کس نے کب اور کهاں کي تھي ؟بهر حال اس بات کو کسي بھي طور تسليم نهيں کيا جاسکتا که جناح صاحب کي بودوباش مغربي نهيں تھي ، اور يا وه مغربي تهذيب وتمدن کے دلداده نهيں تھے – اس کے مقابل اگر خدائي خدمت گار تحريک کے قائد باچاخان اور ان کے ساتھيوں کي زندگي کا جائزه لياجائے تو يه حقيقت مترشح هوگي کي مٹي کي محبت ميں ان آشفته سروں نے ايسے ايسے قرض چکا ئے تھے که حيرت هوتي هے – باچاخان کي قربانياں تو نهايت هي مشهور هيں ، ان کا ذکر ان سطور ميں شروع کيا جائے تو اصل موضوع سے بات بهت دور نکل جائے گي ، اتنا کهنا کافي هے که جن انگريزوں سے مبينه طور پر جناح صاحب نے مسلمانوں کو آزادي دلائي تھي اور جن کے خلاف ان کا کوئي بيان ريکارڈ پر موجو د نهيں انهي انگريزوں کےکالے دور ميں باچاخان نے برسها برس جيلوں ميں گزارے ، يه تو طے هے که کسي اخلاقي جرم ميں انهيں يا ان کے ساتھيوں کو جيل کي صعوبت نهيں جھيلنا پڑي تھي ، جائيداد کا مسئله يا لين دين کا کوئي تنازعه بھي نهيں تھا ، پھر وه اور ان کے ساتھيوں کي زندگي کے بهترين برس کيوں جيلوں کي نذر هوئے ؟شايد اگر هر قسم کے تعصب اور بلا جواز رومانويت سے پاک هوکر تاريخ کے ايک طالب علم کي حىثيت سے اس ايک سوال کا جواب دے ديا جائے تو جناب ڈاکٹر صاحب ممدوح باچاخان کي تصوير کا موازنه کبھي بھي جناح صاحب سے نهيں کريں گے ، ان کو پھر بھي اگر جناح صاحب کے تشخص مشرق و مذهب کا اتنا هي زياده ايقان هے تو پھر تيسري اور چوتھي نسل ميں جناح صاحب کے آباواجداد کے نام هي بتا ديں اور قرآن وسنت کي روشني ميں ان ناموں کي تشريح بھي فرماديں –

Wednesday, 25 January 2012

مسیح الافاغنہ



پچھلی صدی کے اوائل میں ٹیگور اور کپلنگ دونوں ہی نے اپنی تحریروں میں پختون کرداروں کا ذکر کرتے ہوئے ان کرداروں کو جذباتی طور پر آسانی سے مشتعل ہونے والے پُر جوش انسانوں کے روپ میں پیش کیا تھا۔(1)ہماری پختون قوم کی حساس اور پُر جوش فطرت کی منفیت کے متعدد حوالے کئی ایک دیگر کتابوں میں بھی ملتے ہیں۔مثال کے طور پرباچا خان کی عدم تشدد پر مبنی جدوجہد کے بارے میں مشہور کتاب Thrown to the Wolves کے مصنف پیارے لال نے اپنی اس تصنیف میں فیلڈنگ کنگ ہال کی کتاب Thirty Days of Indiaسے درج ذیل اقتباس نقل کیا ہے،

"One Pathan was sitting on the ground listening intently to a radio broadcasting programme while his neighbour continued to chatter. The first man told the talker to shut up, but the later observed that he had as much right to speak as 'that loud mouth over there'. The radio fan promptly switched off the human 'loud speaker' by sticking a knife into his ribs"(2)

یعنی ایک پٹھان بڑے غور سے ریڈیو سن رہا تھا جبکہ اس کا پڑوسی مسلسل بول رہا تھا۔ اس نے اپنے پڑوسی سے خاموش ہونے کو کہا لیکن پڑوسی بولا کہ بات کرنے کا حق اسے بھی ریڈیو جتنا ہی ہے۔ اس پر ریڈیو سننے والے نے اسے پسلیوں میں چاقو گھونپ کر چپ کرا دیا۔

تاہم پختونوں کی فطرت اور عادات کی دل چسپ ترین تفصیلات ہمیں ان خفیہ رپورٹوں اور سرکاری خط و کتابت میں ملتی ہیں جو برطانیہ کی انڈیا آفس لائبریری میں محفوظ ہیں۔ان کی چند جھلکیاں ہم خان عبدالولی خان کی کتاب   “باچا خان اور خدائی خدمتگاری یا اسی کتاب کے انگریزی ترجمے The Struggle and the Aftermath میں دیکھ چکے ہیں۔اس کتاب میں نقل کی گئی ایک لائن تو خصوصاً کافی دل چسپ ہے اور موجودہ حالات سے مربوط بھی!یہ لائن اس خط سے لی گئی ہے جو دس نومبر سن انیس سو تیس کو وائسرائے لارڈ ارون نے اس وقت کے وزیرِ ہند کو لکھا تھا،

"This corner of the earth is as troublesome as it is tiny and occupies a share of my attention and no doubt yours also out of all proportions to its size" (3)

 ا س خط میں وائسرائے صاحب وزیرِ ہند کو بتا رہے تھے کہ کرہ ارض کا یہ حصہ اپنے رقبے کے اختصار کے باوجود ان کے لئے نہایت مصیبت خیز ہے اور اس مختصر رقبے کے مقابل ان کی توجہ اس نے کچھ زیادہ ہی حاصل کر رکھی ہے ۔جب یہ خط لکھا گیا تھا تو اس وقت باچا خان کو عدم تشدد کا فلسفہ اختیار کئے ہوئے دس برس جبکہ اپنی قوم کی اصلاح کے لئے انہوں نے جو تحریک آغاز کی تھی اس کو بیس سال بیت چکے تھے۔آج سے تقریباً اٹھارہ برس بعد اس خط کو تحریر ہوئے ایک صدی مکمل ہو جائے گی لیکن کرہ ارض کا یہ حصہ اپنے رقبے کے تمام تر اختصار کے باوجود آج بھی بیرونی دنیا کے لئے مصیبت خیز ہے اورعالمی توجہ کا بھی ایک بڑا حصہ بدستور اسی پہ مرکوز ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ پچھلی صدی کے ابتدائی برسوں میں ہمارے نو آبادیاتی حکمرانوں کے لئے وجہ ءپریشانی عدم تشدد کا وہ فلسفہ تھا جس کے باچا خان نہ صر ف حامی تھے اور اپنے پیروکاروں کو بھی اس کا پرچار کرتے تھے بلکہ عملاً بھی نہایت پُرجوش طریقے سے انہوں نے اسے اختیار کر رکھا تھا، جبکہ آج ہم ایسے حالات میں جی رہے ہیں کہ جہاں تشدد ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے۔

عدم تشدد، امن پسندی، اہنسا اور حالیہ ترین عدم مقاتلے کے نظریات کی حمایت اور ان کا دفاع کرنے والے تو ہمیشہ زیادہ ہوتے ہیں لیکن انہی نظریات پر سختی سے عمل کرنے والوں کی تعداد ہمیشہ کم رہی ہے۔پختون قوم کی خوش قسمتی یہ ہے کہ عدم تشدد کے فلسفے کے پرجوش ترین پرچارک اور اسی پرسختی سے کاربند رہنے والے عظیم انسان نے انہی کے بیچ جنم لیا تھا۔باچا خان کا تعلق ایک متمول گھرانے سے تھا لیکن ان کا دل عوام اور محروم طبقات کے لئے احساس سے پُر تھا۔اسی لئے تو انہوں نے خود بھی ان ہی میں سے ایک ہونا چن لیا تھا۔انہوں نے کبھی بھی خود کو کسی سٹیج یا منبر تک محدود نہیں رکھا جہاں سے وہ صرف ان مقاصد کی زبانی خدمت ہی کر سکتے ہیں جن کے لئے اپنی قوم کو بیدار کرنا ان کا مشن تھا۔ہمیشہ انہوں نے اپنے لوگوں کے قریب جا کر عملاً انہیں اپنی بات کا ابلاغ کرانا چاہا۔اس ضمن میں ایک واقعہ جو خان عبد الولی خان نے اپنی محولہ بالا کتاب  میں بیان کیا ہے، خصوصاً قابلِ ذکر ہے۔ولی خان لکھتے ہیں کہ اپنے سیاسی کیرئیر کی ابتداءمیں انہیں ایک ہزار ساتھیوں سمیت کرک کا دورہ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔موسم سخت گرم تھا اور انہیں یہ دورہ پیدل ہی کرنا تھا۔جو علاقے ان کے دورے کے لئے چنے گئے تھے وہ نہایت رتیلے تھے اور مہینہ بھی رمضان کا تھا۔یعنی انہیں بنا کچھ کھائے پئے صبح سے شام تک گرمی میں تپتی ریت پر چلتے ہوئے جانا تھا۔ولی خان نے لکھا ہے کہ سفر کے دوسرے روز ہی ان کے پیروں میں چھالے پڑ گئے تھے اور وہ چپل پہننے سے معذور تھے۔چنانچہ تپتی ریت پر انہیں ننگے پاں چلنا پڑ رہا تھا۔ایک دن طویل اور تھکادینے والے سفر کے بعد وہ ایک گاں پہنچے اور وہاں کی مسجد کے قریب رک گئے۔ مسجد میں ایک درخت کے نیچے چارپائی پڑی ہوئی تھی۔ ولی خان تھکن سے چور تھے چنانچہ وہ کراہتے ہوئے اس چارپائی پہ لیٹ گئے۔ان کے خدائی خدمتگار ساتھی نے جو ان کی یہ حالت دیکھی تو انہیں بتایا کہ انہیں یاد ہے کہ ایک بار ایسے ہی موسم میں اور ایسی ہی حالت میں باچا خان اسی گاوں کی اسی مسجد پہنچے تھے لیکن یہاں جیسے ہی وہ بیٹھے تو انہیں سامنے پہاڑ پر دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ باچا خان نے امامِ مسجد سے پوچھا کہ کیا پہاڑ پر کوئی گاں ہے؟امام مسجد نے جواب دیا کہ نہیں صرف ایک ہی گھر ہے جہاں ایک آدمی اکیلا رہتا ہے۔ باچا خان فوراً اس شخص سے ملنے کو تیار ہو گئے۔ امام مسجد نے انہیں بہتیرایقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ شخص جمعے کی نماز پڑھنے جب آئے گا تو اسے ان کا پیغام پہنچا دیا جائے گالیکن باچا خان کا اصرار تھا کہ وہ ذاتی طور پر اس آدمی سے ملیں گے۔(4) اپنے لوگوں تک اپنا پیغام ذاتی طور پر خود پہنچانے کے لئے ان میں اس قدر جذبہ پایا جاتا تھا۔

جلسے جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں میں جہاں حکام کی جانب سے مظاہرین پر لاٹھی چارج کا حکم ہوتا تو وہ لاٹھیاں سہنے ہجوم میں وہ بھی موجود ہوتے۔جب کبھی بھی گرفتاریوں کی لہر اٹھی تو گرفتار شدگان میں اولین نام انہی کا ہوتا۔ان کی قامت کے کسی رہنماکی گرفتاریاں اور اسیری کے عرصے اتنے تکلیف دہ نہیں رہے جتنے ان کے تھے۔ہندوستان چھوڑ دو تحریک کے دوران مردان کے قریب ایک احتجاجی مظاہرے سے انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری سے قبل انہیں شدید زدو کوب کا نشانہ بنایا گیا ۔ انہیں شدید زخم آئے تھے اور پسلیاں بھی ان کی ٹوٹ گئی تھیں۔(5)وہ انسان جو دنیا کو عدم تشدد کا درس دے رہا تھا خود اسے ہی تشدد کی بد ترین صورتوں کا نشانہ بنایا گیا ۔

جب ان کی پہلی گرفتاری عمل میں آئی تو انہیں ہتھکڑی باندھ کر چارسدہ سے پشاور پیدل  جیل لے جا یا گیا اور جتنے عرصے تک وہ قید رہے تو انہیں بیڑیاں پہنائے رکھی گئی  تھیں جیل والوں کے پاس ان کے ناپ کی بیڑیوں کی کوئی جوڑی نہیں تھی ۔جو جوڑی ان کے لئے چنی گئی تھی اس سے ان کے پیر سخت زخمی ہو گئے تھے۔جب وہ انہیں پہنائی جا رہی تھی تب بھی ان کی ایڑیوں سے اوپر والے حصے سے کافی خون بہا تھا۔انہیں بتایا گیا تھا کہ وہ جلد ہی اس کے عادی ہو جائیں گے۔ (6)جس کوٹھڑی میں انہیں رکھا گیا تھا وہ نہایت بدبو دار تھی۔رفع حاجت کے لئے زمین میں ہی ایک گڑھا کھودا گیا تھا جو کناروں تک غلاظت سے بھرا ہوا تھا۔جب انہیں وہاں لے جایا گیا تو انہوں نے فوراً ہی باہر نکل کر پولیس والے کو بتایا کہ اندر شدید بدبو ہے۔پولیس والے نے انہیں اندر دھکیل کر دروازے کو تالا لگا دیا۔کھانا انہیں سلاخوں کے پار سے دھکیل کر دیا جاتا تھا۔ اس کوٹھڑی کی مسلسل نگرانی کی جاتی تھی تاکہ باہر سے کسی کو باچا خان سے رابطے کا کوئی موقع نہ میسر آ جائے۔(7)

باچا خان کے طرزِ عمل کی ان مثالوں سے ان کے پیروکاروں کو خاکِ وطن کے لئے جانی قربانی سے بھی دریغ نہ کرنے کی تحریک ملی۔تیئس اپریل سن انیس سو تیس کے واقعات خدائی خدمتگاروں کی بے غرض خدمات اور قربانیوں کا ایک روشن ثبوت ہیں۔ینگ انڈیا سے لئے گئے درج ذیل اقتباس سے پتہ چلتا ہے کہ اس سیاہ دن پختونوں سے کس قدر انسانیت سوز سلوک کیا گیا تھا،
"A troop of English soldiers reached the spot and without any warning to the crowd began firing into the crowd in which a number of women and children were present. When those in front fell down, those behind came forward with their breast bared and exposed themselves to the fire. Some people got as many as 21 bullet wounds. [Still] all the people stood their ground without getting into panic…An old woman seeing her relatives and friends being wounded came forward [but] was shot and [she] fell wounded An old man with a four years old child on his shoulder unable to brook this brutal slaughter advanced asking the soldier to fire at him. He was taken at his word and he too fell down wounded. The crowd kept standing at the spot facing the soldiers and was fired at from time to time until there was heaps of wounded and dying lying about. The Anglo-Indian paper of Lahore, which represents the official view itself wrote to the effect that the people came forward one after another to face the firing and when they fell wounded they were dragged back and others came forward to be shot at. This state of things continued from 11 to 5'o clock in the evening. When the number of corpses became too many the Ambulance cars of the Government took them away."(8)
فرنگی سپاہیوں کا ایک جتھہ موقعے پر پہنچا اور بغیر کسی انتباہ کے اس نے اس ہجوم پر گولیاں برسانی شروع کر دیں جس میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ سامنے کی صف والے جب گر گئے تو اس سے اگلی صف والے گریبان کھول کر گولیاں کھانے آگے آ گئے۔کچھ لوگوں کو تو اکیس گولیاں تک لگ گئیں۔اس کے باوجود بھی لوگ اپنی جگہ پر کھڑے رہے تھے اور کوئی افرا تفری نہیں مچی تھی۔ایک معمر خاتون نے جو اپنے رشتہ داروں اور احباب کو زخمی ہو کر گرتے دیکھا تو آگے آئی لیکن اسے بھی گولی مار دی گئی اور وہ بھی زخمی ہو کر گر پڑی۔ایک معمر آدمی جس نے کندھوں پہ ایک چار سالہ بچے کو اٹھایا ہوا تھا اس سے یہ بربریت برداشت نہ ہوئی تو آگے آیا اور سامنے کھڑے سپاہی سے کہنے لگا کہ اسے بھی گولی مار دی جائے۔ اس کی خواہش فی الفور پوری کر دی گئی اور وہ بھی زخمی ہو کر گر پڑا۔موقعے پر موجود لوگ مسلسل آگے آکر گولیاں کھا رہے تھے اور سپاہی بھی ان پر مسلسل گولیا ں برسائے جا رہے تھے حتیٰ کہ وہاں زخمیوں اور لاشوں کا ایک انبار بن گیا ۔ لاہور کے سرکاری ترجمانی کرنے والے اینگلو انڈین پرچے نے بھی یہی لکھا ہے کہ لوگ یکے بعد دیگرے فائرنگ کے سامنے آ رہے تھے اور جب وہ گر جاتے تو انہیں گھسیٹ کر ایک طرف کر دیا جاتا اور ایک نئی قطار آگے آ جاتی۔ یہ صورتحال صبح گیارہ سے شام پانچ بجے تک جاری رہی۔ جب لاشوں کی تعداد بہت بڑھ گئی تو سرکاری ایمبولینسوں میں انہیں اٹھا لیا گیا۔

اٹھارہ برس بعد اور تقسیم کے اگلے ہی برس یہی منظر بابڑہ میں دہرایا گیا۔اسی تنظیم کے وفادار اپنے اسی قائد کی گرفتاری پر احتجاج کر رہے تھے اور ان کے ساتھ پھر وہی سلوک دہرایا گیا۔بابڑہ کے اس مظاہرے میں خواتین بھی قرآن سروں پر اٹھائے یا سینوں سے لگائے شامل تھیں۔(۹)تاہم اس بار ان پر گولی چلانے کا حکم نو آبادیاتی حکمرانوں نے نہیں دیا تھابلکہ آزاد وطن کے نئے حکمران اپنے نو آبادیاتی آقاں کے نقشِ قدم پر چل رہے تھے۔انہوں نے اس المناک واقعے پر پردے ڈالنے کی پوری کوشش کی اور نتیجہ یہ ہے کہ آج سانحہءبابڑہ تاریخ کے اوراق میں کہیں گم ہو چکا ہے۔
باچا خان اور ان کے ساتھیوں نے حریت اور آزادی کے لئے کبھی بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔تاہم المیہ یہ ہے کہ ان کی تمام بے غرض کاوشوں اور قربانیوں کے صلے میں انہیں مزید اور شدید تر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔بابڑہ کے میدان میں نئے حکمرانوں نے جو سلوک ان کے ساتھ کیا اس سے ثابت ہوتا تھا کہ تقسیم کے بعد کی زندگی خدائی خدمتگاروں کے لئے اور بھی اجیرن ہونے والی ہے۔وجہ اس کی ظاہر تھی۔ تقیم سے قبل کانگرس کے حلیف تھے اور نئی ریاست میں ان کی تمام تر مخلصانہ یقین دہانیوں کے باوجود بھی انہیں ریاست کے وفادار تسلیم نہیں کیا جا سکتا تھا۔

آزادی کے کئی برس بعد Thrown To The Wolvesکے مصنف کو لکھے ایک خط میں باچا خان فرماتے ہیں،
"Considerations of personal harm have never weighted with me. What saddens me is that while we shrank from no sacrifice for the sake of India's independence, the Congress on attaining it forsook us. They gave themselves upto enjoyment while we were left to suffer alone. We are still dubbed 'Hindus'. This was unbecoming of the Congress"(10)

ذاتی نقصان کی پروا میں نے کبھی نہیں کی لیکن جو بات مجھے دلگیر کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے لئے کوئی قربانی دینے سے اگرچہ ہم نے کبھی کوئی دریغ نہیں کیا لیکن جب یہ آزادی حاصل ہوئی تو کانگرس ہمیں بیچ منجدھار چھوڑ گئی۔خود تو وہ (آزادی کے) مزے لیتے رہے اور ہمیں سب تکالیف جھیلنے انہوں نے تنہا چھوڑ دیا۔ہمیں آج بھی ”ہندو“ کہا جاتا ہے۔ یہ کانگرس کے شایانِ شان نہیں تھا۔

اپنے لوگوں کی بدحالی نے باچا خان کو اپنی تلخی کے اظہار پر مجبور کر دیا تھا۔یہ ایک ایسے شخص کے الفاظ تھے جسے خدشہ تھے کہ جن لوگوں نے اس کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی جانیں گنوائی ہیں ان کی قربانیاں تسلیم کرنے سے کہیں ا نکار نہ کر دیا جائے۔

باچا خان کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ اپنے دیگر ہم عصر مسلمان قائدین کے بر عکس ایک متمول گھرانے سے تعلق رکھنے اور ایک مومن با عمل ہونے کے باوجود ان کی چال ڈھال اور شخصیت میں خود نمائی یا تعلی کاکوئی عنصر نہیں تھا۔ان کے لئے مذہب عقیدوں کا کوئی پلندہ نہیں تھا کہ جس کو سیاسی مقاصد کے لئے جس طرح چاہے استعمال کر لیا جائے۔انہوں نے مذہب کا مطالعہ کر رکھا تھا اور اپنی زندگی کے لئے اسباق انہوں نے اسلام کے اولین دور سے لئے تھے کہ جب مسلمانانِ مکہ کو شدید تر ین تشدد کا سامنا کرنا پڑتا تھا لیکن جواباً انہوں نے کبھی پُر تشدد ردعمل کی راہ نہیں اپنائی۔ باچا خان اچھی طرح سے جانتے تھے اور اپنے پیروکاروں کو بھی انہوں نے یہی بتایا تھا کہ

"There are two ways to national progress: one is the path of religion and the other is the road to patriotism. If we are on the road to ruin, it is because we have neither the true spirit of religion, nor the true spirit of patriotism, of love for our nation, nor have we developed any social consciousness."(11)

قومی ترقی کے دو راستے ہیں۔ ایک مذہب اور دوسرا وطن پروری کا۔اگر آج ہم تباہی کی راہ پر ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم میں نہ تو مذہب کی اصل روح موجود ہے اور نہ ہی وطن پروری یعنی قوم کے لئے محبت کی اور نہ ہی ہم نے خود میں سماجی بیداری کی کوئی سعی کی ہے۔

جہاں غیر کانگرسی مسلمان رہنماءبراہِ راست یا بالواسطہ طور پر مذہبی تفرقات پر زور دے کر تشد د کو بڑھاوا دے رہے تھے وہیں باچا خان کی پر جوش کاوشیں اس امر پر مرکوز تھیں کہ کسی طوران کی قوم اس قابل ہو جائے کہ اپنے اس الٰہی ہتھیار کو دوبارہ ہاتھ میں لے لے جسے وہ ایک عرصے سے فراموش کئے ہوئے ہے۔ یہ ہتھیار صبر کا ہتھیار تھا۔اپنے عوام کے لئے ان کا پیغام تھا

"I am going to give you such a weapon that the police and the army will not be able to stand against it. It is the weapon of the Prophet (Peace be upon him), but you are not aware of it. That weapon is patience and righteousness. No power on earth can stand against it. When you go back to your villages, tell your brethren that there is an army of God and its weapon is patience. Endure all hardships. If you exercise patience, victory will be yours."(12)

میں تم لوگوں کو ایک ایسا ہتھیار دینے جا رہا ہوں جس کے سامنے کوئی پولیس یا فوج کبھی ٹھہر نہیں سکے گی۔یہ رسول اللہﷺ کا ہتھیار ہے لیکن تم لوگ اس سے واقف نہیں ہو۔یہ صبر اور تقویٰ ہے۔دنیا کی کوئی طاقت اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی۔ تم لوگ جب واپس اپنے دیہات جا تو اپنے بھائیوں کو یہ ضرور بتانا کہ خدا کی ایک فوج ہے جس کا ہتھیار صبر اور تحمل ہے۔تمام مصائب اور مشکلات برداشت کروکیونکہ اگر تم صبر کرو گے تو فتح یقینا تمہاری ہی ہو گی!

یہ وہ پیغام ہے جو دنیا کے کونے کونے میں پھیلا دینا چاہئے۔احساسِ ذمہ داری کا مادہ رکھنے والے اسے ضرور قبول کریں گے۔

حوالے:

 ۱) ٹیگور کے افسانے کابلی والا میں پختون کردار کا نام رحمت جبکہ کپلنگ کے ناول کم میں پختون کردار کا نام محبوب علی تھا۔
۲) پیارے لال،تھرون ٹو دی وولوز، عبدالغفار خان :ایسٹ لائٹ بک ہاس، کلکتہ ، ،1966 ۔ص27
۳) خان عبدالولی خان، باچا خان اور خدائی خدمتگاری(تقسیم ِ ہند یا تقسیمِ مسلمان): باچا خان سینٹر، پشاور، 2009 ۔ص56
۴)خان عبدالولی خان، ص ص 177-178
۵)فارغ بخاری، تحریکِ آزادی اور باچا خان: فکشن ہاس ، لاہور، 1999۔ص156
۶)خان عبدالغفار خان، زما ژوند اوجدوجہد: کابل دولتی مطبع، کابل، 1981،ص 146
۷)راج موہن گاندھی، عبدالغفار ، دی نان وائلنٹ بادشاہ آف دی پختونز:پینگوئن بکس انڈیا، نئی دہلی، 2004۔ص62
۸) پیارے لال،ص17
۹) تفصیل کے لئے دیکھئے سالار کریم داد ، خدائی خدمتگار سالار کریم داد، ضیاءسنز پرنٹرز، پشاور،2006۔ص ص82-88
۰۱) پیارے لال، ص 76
۱۱) ایس آر بخشی ، عبدالغفار خان، دی فرنٹیئر گاندھی: انمول پبلی کیشنز ، نئی دہلی، 1992۔ ص ص 122-123
۲۱)ایکناتھ، اے مین ٹو میچ ھز مانٹینز،بادشاہ خان ، دی نان وائلنٹ سولجر آف اسلام، نیلگری پریس، کیلی فورنیا، بار دوم، 1985،ص117








Monday, 12 December 2011

امارشونر بنگلہ


16 دسمبر کی تاریخ ہر سال آتی ہے اور پڑھنے و دیکھنے کا ایک مختلف النوع مواد چھوڑ دیتی ہے ۔ اکثریت کی رائے اب بھی بنگلہ بندھو جناب شیخ مجیب الرحمن شہید کو غدار کہنے پر ہی منتج ہوتی ہے اور دیانت داری سے کوئی بھی اس بات کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نظر نہیں آتا کہ بنگلہ دیش بنانے میں شیخ مجیب الرحمن  شہیدسے زیادہ عمل دخل اس اشرافیہ کا ہے جس نے 1947ءسے 1970ءکے انتخابات تک اس المیے کو پال پوس کر اس درجہ تک جوان اور پھل آور بنا دیا تھا کہ انتخابات میں واضح اکثریت کے حصول کے باوجود عوامی لیگ کو انتقال اقتدار سے احتراز کسی مغربی پاکستانی کو ( عمومی سطح پر بھی ) بے انصافی ہی نظر نہیں آتی تھی ۔ المیہ یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے چئیرمین جناب ذوالفقار علی بھٹو کی ہدایت پر پیپلز پارٹی نے شیخ مجیب کو پھانسی دو کے نعرے لگانے شروع کردئے اور پاکستان کی اکثریت کے قائد کو قیادت کے حق سے محروم کر کے ایک غدار ،وطن فروش اور بھارتی ایجنٹ کے روپ میں پیش کرنا شروع کر دیا ۔ 1970ءکا انتخاب صرف پیپلز پارٹی نہیں ہاری تھی بلکہ پیپلزپارٹی کی شکست کی صورت فوج اور طبقہ اشرافیہ کو بھی ہزیمت اٹھانی پڑی تھی ۔ صورت حال ہو بہو وہی بن گئی تھی جو 14اگست 1947ءکو ہمارے صوبے کی تھی ۔ یہاں مسئلہ یہ واقع ہوچکا تھا کہ خدائی خدمت گاروں اور کانگریس کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر خان صاحب کی آئینی قانونی و اکثریتی حکومت مسلم لیگ کی مرکزی حکومت کی آنکھ کا کانٹا بن چکی تھی ،سو مرکزی حکومت (جس کے سربراہ ظاہر ہے کوئی اور نہ تھے بلکہ وہ ذات اس عہدہ اعلیٰ پر متمکن تھی جن کے اقوال اور افعال پاکستان کے لئے مشعل راہ ٹھہرنے والے تھے )کے حکم پر 21اگست 1947ءکو جبراً اس حکومت کی چھٹی کروا دی گئی اور خان قیوم کو وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا ۔ زیادتی اتنی کی گئی کہ نصاب سے کیا تاریخ سے بھی یہ بات خارج کردی گئی کہ قیام پاکستان کے وقت اس صوبے کے وزیراعلیٰ کون تھے ؟اور آج بھی آپ کو پاکستانی ضرورتوں کے مطابق لکھی گئی تاریخ کی جتنی کتابیں نظر آئیں گی اس میں اس صوبے کی وزرات علیا میں سرفہرست نام ڈاکٹر خان صاحب کی بجائے خان قیوم کا ہوگا ۔پختونوں کی بدقسمتی کہئے کہ ہمارا جغرافیہ ہمیشہ سے ہماری سیاست کے آڑے آتا رہا ۔ مشرقی پاکستانیوں کے ساتھ قدرت نے ایسی کوئی ستم ظریفی نہیں کی ۔ بلکہ یہ کہا جائے تو درست ہوگا کہ مشرقی بازو کے پاکستانیوں نے ہمیشہ (1971ءتک) مغربی پاکستانیوں سے زیادہ پاکستانیت کا ثبوت دیا ۔ مسلم لیگ ق ( یہ وہ قاف لیگ نہیں جو ان دی لائن آف فائر کے مصنف کی مرضی پر ہائر کی گئی)کے سربراہ ملک قاسم نے راقم الحروف کو ایک انٹرویو میں بتا یا تھا کہ پاکستان کا قیام دراصل مشرقی پاکستان کی قربانیوں کا ثمر ہے ۔ بات تو بالکل درست اور بجا ہے ۔ دیکھ لیں کہ مشرقی پاکستان کے سوا سندھ ، پنجاب ، بلوچستان اور سب سے بڑھ کر اس خالص مسلم آبادی کے صوبے یعنی پختونخوامیں تقسیم کے وقت اور اس سے قبل مسلم لیگ کی تنظیم ہی کیا تھی ؟اور اگر تنظیم تھی تو اس تنظیم کا عوام سے رشتہ کتنا تھا ؟یہ صرف مشرقی پاکستان ہی تھا جس نے مسلم لیگ کو اپنے دامن میں پناہ دے رکھی تھی اور اس میں کسی کو کوئی شک بھی نہیں ہونا چاہئے ۔ مسلم لیگ کی تمام تحاریک کا گڑھ بنگال کا وہ حصہ ہی تو تھا جس میں مسلمان اکثریت میں بستے تھے ۔ مسلم لیگ کی حکومتیں بھی وہاں بنتی رہتی تھیں ۔ مسلم لیگ کی بلکہ بنیاد بھی ڈھاکہ ہی میں رکھی گئی اور اس کی پرورش بھی بنگالی نوابوں کی رہین منت ہے ۔ اب ایسے لوگوں کا جنہوں نے پاکستان اور مسلم لیگ بنانے میں تن من دھن کی پرواہ نہیں کی ان لوگوں کا 26مارچ1971ءاور 16دسمبر 1971ءتک پہنچنا ایک حادثہ تو نہیں کہلایا جاسکتا ۔ یہ تو دراصل انہی لوگوں کی متعصب ذہنیت تھی جنہوں نے قیام پاکستان کو بھی بنگالیوں کی سازش قرار دیا تھا ۔ جب کوہلو کو پاکستان کی فوجی حکومت نے کچھ برس قبل فتح کیا تو شہید نواب محمد اکبر بگٹی کے مخالف اعظم میراحمدان بگٹی کو ڈیرہ بگٹی لانے کے مناظر خصوصی طور پر پورے پاکستان کو دکھائے جارہے تھے ۔ بی بی سی کے لکھاری کاشف قمر بھی کراچی سے آنے والے صحافیوں کے ہمراہ تھے ۔ انہوں نے بعد میں لکھا تھا کہ ایک اعلیٰ عہدے پر تعینات شاہین جرنیل نے ”ذہن سازی “ کے لئے صحافیوں کو بتا یا کہ 1905ءمیں بنگال کی تقسیم کے ساتھ ہی بنگالی مسلمانوں کو یہ خیال آیا کہ ان کا ایک الگ ملک ہونا چاہئے ۔ چنانچہ 1906ءمیں ڈھاکہ میں مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی۔ دکھاوے کے لئے اس کا نام آل انڈیا مسلم لیگ رکھا گیا ۔حالانکہ ابتدا میں اس پر بنگال کے مسلمان نوابوں کا قبضہ تھا لیکن بعد میں اترپردیش اور وسطی ہندوستان کے مسلم رہنماوں کو اس کی قیادت ظاہری طور پر سپرد کی گئی کیونکہ بنگالی تنہااس ”سازش “ کو کامیاب نہیں بنا سکتے تھے ۔1930ءمیں جب ڈاکٹر سر محمد اقبال نے پاکستان کے خدوخال بیان کئے تو بنگالی رہنماوں نے اس کی مخالفت کی 1938ءمیں اقبال کی موت سے بنگلہ دیشی  سازش کو سمجھنے والے واحد مسلم رہنما بھی نہ رہے 22مارچ کو بنگال ہی کے اے کے فضل حق نے اسی سازش کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ایک قرارداد پیش کی جس میں مختلف آزاد ریاستوں کا تصور تھا جسے کوئی نہ سمجھ سکا اور اس کی منظوری مسلم لیگ کے سالانہ جلسے میں دے دی گئی بعد میں 1946ءکے دسمبر میں جناح صاحب بھی اس سازش کو بھانپ گئے اسی وجہ سے دہلی کے سالانہ اجلاس میں مختلف آزاد ریاستوں کے بجائے لفظ پاکستان کا اندراج اس قرار داد میں کر دیا گیا ۔ پھر حسین شہید سہروردی نے جناح صاحب کے کان بھرے اور انہوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں یہ اعلان کر دیا کہ Urdu and Urdu will be the only National Language of Pakistanیعنی اردو اور صرف اردو ہی پاکستان کی واحد قومی زبان ہوگی جس پر یونیورسٹی میں ہنگامے بھی ہوئے ۔ اندازہ لگائیں کہ شاہینوں کے نزدیک قیام پاکستان اور تخلیق ِ مسلم لیگ دونوں بنگالی سازش ٹھہرچکے ہیں ۔ یہ بات نئی نہیں بنگالیوں کا وجود ہی پاکستان میں مس فٹ تھا ایک تو ان کا قد پانچ فٹ پانچ انچ کے اوسط پر رکا ہوا تھا ان کی زبان ایسی تھی جسے وہی سمجھتے تھے (اور اتنا کچھ سمجھتے تھے کہ اسی زبان کے لئے انہیں ایک نئی ریاست کی جدوجہد کرنی پڑی)ان کا رنگ بھی کچھ زیادہ گہرا تھا ۔ یہ بھی دنیا کی تاریخ کا ایک انوکھا ہی واقعہ تھا کہ ملک کی اکثریت نے اپنے ہی ملک کی اقلیت سے آزادی حاصل کی ۔ اور باقی ماندہ پاکستان کی سنجیدگی کا یہ عالم تھا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس حمود الرحمن کی سربراہی میں قائم کردہ تحقیقاتی کمیشن نے جو رپورٹ اس سانحے کے بعد جاری کی اس پر عمل درامد سے احتراز کیا اس کی اشاعت کو بھی وسیع تر ملک مفاد میں نقصان دہ قرار دیا گیا ۔
آج 16دسمبر ہے ۔ لیکن تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ اس دن سے کچھ سیکھنے کی کوشش نہیں کی جارہی ۔ جب میاں نواز شریف صاحب اصولی سیاست کا علم تازہ تازہ تھام کر سچائیوں کا اظہار کر رہے تھے تو اس زمانے میں کسی صوبے میں ان کی حکومت نہیں بنی تھی بلکہ انتخابات بھی نہیں ہوئے تھے اور بدنام ِ زمانہ ایمرجنسی بھی نہیں لگی تھی 18اگست 2007ءکے تمام اخبارات میں ان کا ایک بیان ناقابل فراموش حیثیت اختیار کر گیا تھا ( کم از کم ہمارے لئے ) انہوں نے کہا تھا کہ بھارت میں 134فوجی جرنیل ہیں لیکن سیاسی امور پر کسی ایک جنرل کا اخباری بیان شائع نہیں ہوتا ہمارے ہاں چالیس کے قریب جرنیل ہیں اور ساٹھ برسوں سے حکمرانی انہی کے ہاتھ میں ہے ۔ لیکن ہوا کیا ۔ جب کور کمانڈروں نے بالاجتماع کیری لوگر بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تو میاں نواز شریف کی اصولی سیاست نے ان کی کوئی رہنمائی نہیں کی انہوں نے کیری لوگر بل کی مخالفت کا بیڑہ اٹھا لیا اور فوج کی جانب سے اس ردعمل کو دلیل اعظم کے طور پر بیان کرنا شروع کردیا ۔ ابھی کل پرسوں ہی ان کا ایک دوسرا قول زریں بھی اخبارات کی زینت بنا ہے کہ عوام کے مسائل حل نہ ہونا جمہوریت کی ناکامی ہے ۔ اس طرز عمل کو کیا کہا جاسکتا ہے ۔ ہمارے پاس الفاظ نہیں وہ حکومت کی مخالفت میں جمہوریت پر تبریٰ بھیجنے سے بھی باز نہیں آرہے ۔ حالانکہ میثاق ِ جمہوریت کے بعد ان کے اس طرح کے بیانات اور رویوں کی گنجائش ہی نہیں بنتی ۔رویے اب بھی وہی ہیں جو اس سے قبل تھے 1971ءسے 2009ءتک کی مدت میں پاکستان میں بہت ساری تبدیلیاں آئی ہیں لیکن مقتدر حلقوں کے تیور اور روےے نہیں بدلے ۔ کوہلو کے پہاڑوں میں حکومتی رٹ قائم کرنے کی فکر سے مقتدر ہ کی راتوں کی نیند غائب ہوگئی تھی لیکن خیبر ایجنسی میں ایسے حالات کسی کو نظر نہیں آرہے ۔ ڈیر ہ اسمٰعیل خان کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے وہاں دن دیہاڑے سرگرمیاں رک جاتی ہیں لیکن کسی کو فکر نہیں ۔ کرم ایجنسی میں بھی حالا ت کی سنگینی کا عالم یہ ہے کہ محرم الحرام نے  انتظامیہ  کا خون خشک کردیا تھا ۔ یہاں تک کہ اس ملک کے معاملات کا عالم یہ ہے کہ خود کش حملوں کے خلاف ا تفاق رائے کے حصول کے لئے حکومت سرگرداں نظر آتی ہے اور حکومت میں موجود مذہبی سیاسی جماعت کے رہنماوں کا تعاون بھی حکومت کو نصیب نہیں ہوتا۔ مہنگائی اور کرپشن کے ساتھ ساتھ اشیائے ضروریہ کا بحران علیحدہ تفصیل کا متقاضی ہے ۔ امن و امان کے محاذ پر ہماری ناکامی ہر لحاظ سے مسلم ہے ۔ جنگی ترانوں اور ٹی وی کے ٹریٹ شدہ فوٹیج کے سوا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کا کوئی مواد ہی نہیں ۔ جن لوگوں کو گرفتار کرنے پر حکومت نیٹ ورکس کے کمر توڑنے کے اعلانات کرتی رہتی ہے وہ اتنے غیر موثر لوگ ہیں کہ اب بھی حملے ہو رہے ہیں ۔ بجلی اور سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف کوئی احتجاج کرتا ہے تو اس پر ڈنڈے برسائے جاتے ہیں ۔ آنسو گیس پھینکی جاتی ہے ۔ اس کے مقابل بنگلہ دیش کا چھوٹا سے ایک ملک جس نے پاکستان کے بہت بعد پاکستان ہی سے آزادی حاصل کی مختلف شعبوں میں ترقی کی مثال کی حیثیت اختیار کر گیا ہے ۔ ڈھاکہ جنوبی ایشیا ءکا واحد دارالحکومت ہے جہاں پینے کے پانی کا کوئی مسئلہ نہیں ۔ ورلڈ بینک کی کتابوں میں بنگلہ دیش کو تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک قرار دیا گیا ہے ۔ تین سال قبل جب ہم ڈھاکہ میں تھے تو اس وقت ہمیں یہ معلوم ہو ا کہ وہاں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کس درجہ پر کم ہیں ۔ پاکستان کی کرنسی میں تین ہزار روپوں سے وہاں ایک باعزت زندگی بسر کی جاسکتی ہے ۔ سادگی ہے اور سہولتوں کی فراوانی ہے ۔ ایک سردی کا موسم ڈھاکہ میں نہیں ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ جس مہینے میں سردی ہوتی ہے وہ مہینہ وہاں پر لہو گرمانے کا باعث بنا تھا ۔ جو لوگ مشرقی پاکستان کی آزادی کو سقوط کہتے ہیں وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ یہ کیسا سقوط تھا جس نے ہم سے بعد آزادی حاصل کرنے والوں کو ایسی ترقی عطاکردی کہ اسے مثال کی حیثیت دی جارہی ہے اور یہ خودغرضی نہیں تو اور کیا ہے کہ ہم اس دن خود احتسابی کے عمل کو زندہ رکھنے کی بجائے بنگالیوں کی مذمت ہی کرتے رہتے ۔ ایم کیو ایم کو ہم سیاسی جماعت نہیں سمجھتے لیکن اس کے سربراہ الطاف حسین نے جو کہا تھا اس سے ہم اتفاق ضرور کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس دن کو یوم سقوط ِ ڈھاکہ نہیں کہنا چاہئے اور نہ ہی اس دن کو اس طرح منانا چاہئے بلکہ اس دن کا تقاضا یہ ہے کہ اہل پاکستان کو یہ دن یوم ندامت کے طور پر منانا چاہئے ۔ ہمارا ذاتی صدمہ تو یہ ہے کہ امارشونربنگلہ (میرے محبوب بنگال) کے بچھڑنے کے بعد باقی ماندہ پاکستان میں بائیں بازو کی سیاست حالت نزع میں پہنچ گئی ۔ آج بھی کسی ایسے موضوع پر کھل کر بات نہیں ہوسکتی جو رواداری ،ترقی پسندی اور روشن خیالی کی تشریح کرے ۔ اور بنگالیوں کو نکال باہر کرنے کے بعد ہماری روشن خیالی اور جمہوریت پسندی معتبر بھی کہاں ٹھہر سکتی ہے ۔