حرف به حرف

زلان مومند پختونخوا کے صحافی اور کالم نگار ہیں۔ ان کا کالم حرف بہ حرف کے عنوان کے تحت صوبے کے ممتاز اخبارات میں باقاعدگی سے شائع ہوتا رہا ہے۔ یہ بلاگ ان کی گزشتہ تحاریراور تازہ تخلیقات کا انتخاب ہے

Monday, 15 March 2010

کہسا ر باقی افغان باقی ۲

کابل ائر پورٹ پر ہمارا ا ستقبال وزارت امور خارجہ کے نوجوان اور مستعد اہلکار اجمل جان نے کیا ۔ خدا کا شکر ہے کہ وہ صبح سے ہی ہماری آمد کے منتظر تھے ۔یہ الگ بات کہ ان کے وزیر خارجہ جناب رنگین داد فر سپانتا اور سیمینار کے داعی داود مرادیان صاحب(جو سڑیٹیجک سٹڈیز سینٹر کے ڈائریکٹر جنرل ہیں ) دونوں اس وقت افغانستان میں موجود نہیں تھے ۔ 

ائر پورٹ سے باغ بالا کے قریب واقع کابل انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل جانے کا راستہ کافی دلچسپ اور سبق آموز اس حوالے سے ثابت ہو ا کہ ایک تو یہ معلوم ہو ا کہ پورے کابل کی سڑکوں کو ادھیڑ دیا گیا تھا اور ان کی تعمیر نو کا کام تیزی سے جاری تھا ۔ دوسری بات یہ تھی کہ ایک بے ہنگم و پُر ہنگم قسم کا رش تھا اور کھوے سے کھوا چھلکنے کا وہی سماں تھا جو پشاور میں ایم ایم اے دو ر کی یاد گار ہے ، لیکن جس صبر و استقلال کے مظاہرے دیکھنے میں آئے وہ قابل تقلید تھے-

ایسا لگتا تھا جیسے کابل کے باشندوں نے محترم افراسیاب خٹک کی یہ بات پلے سے باندھ لی ہے کہ “ افغانوں نے اپنے حصے کی تما م جنگیں لڑ لی ہیں اب چاہئے یہ کہ آئندہ کئی سو سال تک افغان عوام کسے تنازعے یا مناقشے کا حصہ نہ بنیں” َ۔ ایک موقعہ پر ہماری گاڑی ایک دوسری گاڑی پر چڑھ دوڑنے سے کچھ ہی قاصر رہ گئی تھی لیکن ہماری گاڑی کے ڈرائیور کی پیشانی پر عرق انفعال دیکھ کر دوسری گاڑی والے صاحب نے کہا خیر باشد خیر باشد اور چل دئے ، ایسا طرز عمل درحقیقت ہماری لغت میں نادر ہی تھا ۔ جس کی تعریف کئے بنا ہم نہ رہ سکے ۔ 

گاڑی ہوٹل میں داخل ہوئی تو اس کی تلاشی وغیرہ لینے کے بعد ہمیں اندر جانے کی اجازت ملی اور ایسا ہماری سلامتی کے لئے کیا گیا تھا ۔ دربانوں نے خالص افغانی روایات کے تحت سینے پر ہاتھ رکھ کر عجز و خیر مقدم کے اشارے دئے جواباً ہم نے بھی سینے پر ہی ہاتھ رکھ کر خیر سگالی کا اظہار کیا ۔ ضروری اندراج سے فارغ ہوئے تو معلوم ہوا کہ افراسیاب خٹک صاحب لابی ہی میں موجود ہیں ان سے ملاقات ہوئی اور سیاسی و قومی امور کے حوالے سے جو گتھیاں نہیں سلجھ رہی تھیں ان کا موقف ان سے پایا ۔

ہمارے ساتھی اور کابل میں باچاخان ؒ ٹرسٹ کے نگران سید عثمان سنجش بھی پہنچ چکے تھے ۔ لونگین ولی خان کا اصرار تھا کہ انہیں کابل دیکھنا ہے لیکن تھکاوٹ اور نیندکا فطری اتحاد اس خواہش کی راہ میں رکاوٹ بن گیا ۔ہم نے سنجش صاحب سے گزار ش کی کہ وہ عصر اور مغرب کے درمیان تشریف لائیں تو ان کی معیت میں ہم لونگین ولی خان کی خواہش پوری کر دیں گے ۔ ہمارے رفیق سفر بلکہ امیر قافلہ ڈاکٹر فضل الرحیم مروت صاحب اور میں کابل کئی مرتبہ دیکھ چکے ہیں اس لئے اس جوش سے ہم عاری تھے ۔ 

مغرب کے قریب جب سنجش صاحب آئے تو ہم ان کی گاڑی میں بیٹھ کر شہر کے قلب میں واقع سٹی سینٹر جا پہنچے ۔ سٹی سینٹر کیا تھا طرز تعمیر کا ایک شاہکار تھا۔ کابل کے وسط میں اس نئی دریافت کو ہم نے کافی حیرت و مسرت سے نوٹ کیا ۔ سٹی سینٹر کے اندر گئے تو صفائی کا انتظام اس سے بھی اعلیٰ تھا ۔ نجانے کس ملک کے سفید سنگ سے تراشا گیا ایک پیکر تھا جس میں یورپ کی نزاکت اور افغانی ہیبت و استحکام کو اس درجہ پر باہم جوڑ دیا گیا تھا کہ الفاظ سے وضاحت نہیں ہو سکتی ۔ شیشہ کاری اور چھوٹی چھوٹی لفٹوں نے اس پیکر حسن تعمیر کو چار چاند لگا دئے تھے ۔ 

وہاں مختلف قسم کی اشیائے ضروریہ کی دکانیں تھیں ۔ مثلاً زیورات اور پاپوش و پارچہ جات اور سامان ہائے آرائش و زیبائش وافر تعداد و مقدار میں موجود تھے ۔ سٹی سینٹر کے بالائی حصے میں رہائشی منزل تھی ۔ ہمیں سمجھ نہ آسکی کہ اس منزل پر فلیٹس ہیں یا کمرے لیکن بہر حال وہاں رہائش ضرور تھی ۔ اس سٹی سینٹر میں فروخت کے لئے رکھی گئ اشیاءکی قیمتوں سے اندازہ ہوتا تھا کہ کابل میں عمومی تمول کا عالم کیا ہے، جو ہمارے لئے ایک مزید حیرت برپا کرنے کا باعث ہو ا ۔

ایک دکان میں موجود بوٹ دیکھا تو بہت پسند آیا(اپنے لئے نہیں کہ ہم چارسدہ کی چپلی کے سوا کوئی پاپوش پہننے کے روادار ہی نہیں، اسی طرح جیسے ہم بریانی وغیرہ کھانے سے ثقافتی طور پر الرجک ہیں ) لونگین خان کی طرف بڑھاتے ہوئے اس پر قیمت کی پرچی دیکھی تو 24570کے اعداد نظر آئے ۔ ہم سمجھے کہ کوئی سیریل نمبر ہوگا لیکن دکان دار صاحب نے بتایا کہ یہ سیریل نمبر نہیں بلکہ اس کی قیمت ہے ۔ پاکستانی کرنسی کے مطابق اس کی قیمت شاید اڑتالیس ہزار کے لگ بھگ بنتی ہوگی کیونکہ ایک ہزار پاکستانی روپے سے آج کل صرف ساڑھے پانچ سو افغانی بنتی ہیں اور وہ زمانہ اب نہیں رہا جب بارہ چاولوں اور تین روپے کی ایک سینکڑہ افغانی ملا کرتی تھیں ۔ اس نصف لاکھ کے جوتے کو ہم نے تمام تر احترا م کے ساتھ ایک طرف رکھ دیا اور طبقاتی نظام کے سارے درس یاد کر کے اپنی پرولتاریت کی دولت سے تمتماتے ہوئے اس دکان سے باہر نکل آئے ۔ کابل میں شاید اب اتنا مہنگا جوتا پہنا جا سکتا ہو مگر ہمارا مزاج اور ہمارا حال اس جوتے سے کم تر ہی تھا۔ 

باہر نکلے تو سید عثمان سنجش صاحب نے انکشاف کیا کہ اس سٹی سینٹر کی تہہ یعنی بیسمنٹ میں ایک اعلیٰ درجے کا ریستوران ہے ۔ جوتے کی قیمت نے ہماری طبیعت میں تکدر کے عناصر اس درجہ پر برپا کر دئے تھے کہ نہایت ڈرتے ڈرتے ریستوران پہنچے اور وہاں بھی ہمارا اصرار یہ رہا کہ اپنے ہوٹل واپس چلتے ہیں ۔ لیکن سنجش صاحب اور ان سے زیادہ لونگین ولی خان یہ بات ماننے پر راضی نہیں تھے ۔ انہوں نے جوس اور دیگر اشیا ءکے آرڈر دئے تو ہمارے خوف نے ہم سے کہلوا ہی دیا کہ صاحب ہم جوس وغیر ہ ویسے بھی نہیں پیتے ، اگر ایک پیالی چائے کی مل جائے تو شاید طبیعت بشاش ہو جائے ۔ اندیشہ یہی تھا کہ یہ نہ ہو کہ جو جمع جتھا ساتھ لائے ہیں وہ کہیں سٹی سینٹر کے ریستوران ہی کو دان نہ کردیں ۔ ہمارے رفیق بزرگ ڈاکٹر مروت صاحب نے بھی بہتیرا سمجھایا کہ جوس صحیح رہے گا کیونکہ ان کے خیال میں چائے پینے سے صحت خراب ہوتی ہے اب انہیں کیا بتاتے کہ جوس پینے سے ہم چاروں میں سے کسی کی بھی معاشی صحت برباد ہو سکتی تھی ۔ بہر حال جو چائے ہم نے وہاں پی اس میں پستہ و بادام کی شمولیت کے باعث ہمارا ماتھا مسلسل ٹھنک رہا تھا مگر خیریت پیش آئی اور بل کا ہمیں پتہ ہی نہ لگ سکا کہ وہ قرعہ جناب سنجش صاحب نے اپنے نام کا اپنی مرضی سے خود ہی نکال لیا تھا اور ہم مارے شرم کے ان سے یہ بھی نہ پوچھ سکے کہ جوتے اور جوس کی قیمت کا باہمی فرق کتنا تھا ؟
(جاری هے)

Sunday, 14 March 2010

کہسار باقی افغان باقی ۱

ہمارے قومی شاعر خوشحال بابا ؒ نے کہا تھا 
درست پښون لهـ قندهاره تر اټکه
سره يو دَ ننګ پهـ کار پټ اؤ اشکار

یہ ایک ایسا آفاقی شعر ہے جس نے انقلاب ِ فرانس سے بھی کئی عشرے قبل پختون قوم پرستی کو ایک سائنسی تشریح عطا کر دی تھی ۔ سیاسی علوم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نیشنل ازم کی جملہ تشریحات اور ایک قوم کی تشکیل کے عناصرلازمہ انقلاب ِ فرانس کے بعد ماہرین علوم سیاست کے درک میں آئے ۔ اور ہمارے قومی شاعر انہی جزویات کو بغیر کسی رسمی تعلیم کے ایک شعر میں کتنی سہولت سے کہہ گئے ۔ 

ملت ِافغان /پختون کے بارے میں جتنی شدت سے تبصرے اور آراءغیر اقوام نے تحریر کر رکھے ہیں شاید ہی کسی قوم کے بارے میں عالمی دلچسپی اس درجہ عروج پر دیکھی گئی ہو ۔ مثلاً پاکستان کے شاعر ِ بزرگ سر ڈاکٹر محمد اقبال یہ کہتے ہیں کہ 

آسیا یک پیکر آب و گِل است
ملت ِ افغاں درآں پیکر دل است 
از فساد اُوفساد آسیا 
از کشاد اُو کشاد آسیا 


یعنی ایشیاپانی و مٹی کا ایک وجود ہے اورپختون /افغان قوم کو اس وجود میں دل کی حیثیت حاصل ہے سو اس دل کی تباہی و خرابی پورے ایشیا کی خرابی و تباہی ہے اور اس کی کامیابی اور وسعت و خوشحالی پورے ایشیا کی خوشحالی ہے ۔ سر اقبال کے ہاں تو افغان /پختون شناسی کے دیگر حوالے بھی موجود ہیں ۔اسی طرح فرنگی محققین و سیاستدان اور خاصان کا بھی یہ ایک دلچسپ موضوع ِ تحریر ہے ۔ 

یہی نہیں ہندی اور ایرانی مصنفین نے بھی افغان امور کو کم اہمیت نہیں دی ۔ شاید ان تمام افغان شناسوں کو اس بات کا بھی درک تھا کہ یہی قوم کئے صدیوں تک عالمی واقعات و سیاست کا مرکزی نکتہ رہے گی ۔ جو لوگ آج پختونوں کی ایک غیر نمائندہ اقلیت کی متشدد مزاجی کو انتہاپسندی ، عسکریت پسندی ، بنیاد پرستی اور طالبانیت کے ناموں سے لکھ اور پھیلا رہے ہیں اور جنہو ں نے اس مقصد کے لئے اپنی فوجوں کو افغانستان کے طول و عرض میں پھیلا رکھا ہے ، انہی لوگوں کے لئے کبھی پختون /افغان قوم کی عدم تشدد کی پالیسی سخت قابل اعتراض شے بن گئی تھی ۔ دونوں حالتوں میں دراصل مقصد صرف یہ تھا کہ پختون /افغان قوم پر برتری و بالادستی کا خواب پورا کیا جائے ۔ انہیں ترقی کی دوڑ میں پیچھے رکھا جائے اور انہیں سیاسی طور پر تقسیم درتقسیم در تقسیم کردیا جائے ، کیونکہ فطرت کے مقاصد کی نگہبانی کا پہلا ذمہ داریعنی بندہ صحرائی تو تیل پی کر غافل ہو چکا ہے اور مردِ کہستانی کو اگر زنجیر نہ پہنائی گئی تو اس فطرت کے مقاصد کی نگرانی کا فریضہ یہ نہ صرف پورا کرے گا بلکہ شاید بندہ  صحرائی کو بھی تیل کے نشے سے باہر لے آئے گا۔ 

یہی دیکھ لیں کہ گزشتہ کچھ اوپر تیس سال سے افغانستان کس قسم کے حالات سے نبرد آزما ہے لیکن اس کے باوجود افغان عوام ان تمام مشکلات کا پامردی سے مقابلہ کر رہے ہیں ۔ ایسی حالت کسی اور قوم پر مسلط ہوتی تو نجانے اس قوم میں کیا کیا خرابیاں اور کجیاں پیدا ہو چکی ہوتیں لیکن آفرین ہے افغان قوم پر کہ اتنے بڑے جسمانی اور نفسیاتی حادثے نے ان پر وہ مضر اثرات مرتب نہیں کئے جو کسی جنگ زدہ قوم میں فطری طور پر آجاتی ہیں ۔ان لطیف و کثیف نکات کا تذکرہ آنے والے دنوں میں ان کالموں میں اجمالاً کیا جائے گا۔

   
افغان وزارت ِ خارجہ کے زیر اہتما م خطے میں امن اور عدم تشدد کی اہمیت اور معروضی حالات پر ان کے انطباق کے عنوان سے گزشتہ دنوں افغان دارالحکومت کابل میں ایک بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد ہوا ۔سیمیناراور قیام کابل کا مفصل حال بعد میں بیان کریں گے پہلے یہ بتا دیں کہ اس سیمینار میں پاکستان سے محترم افراسیاب خٹک ، ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئر مین اور معروف دانشور ڈاکٹر فضل الرحیم مروت ( جو پشتو کے صاحب طرز شاعر اور نابغہ مترجم بزرگوارم عبدالرحیم مجذوب کے صاحبزادے ہیں ) اور سنگین ولی خان مرحوم کے صاحبزادے لونگین ولی خان کے علاوہ راقم الحروف کو بھی شرکت کا موقعہ ملا۔ بنگلہ دیش ، بھارت ، جاپان اور افغانستان سے بھی علمی و سماجی شخصیات کا ایک گلدستہ اکھٹا کیا گیا تھا۔ 

محترم افراسیاب خٹک صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ افغانستان میں بھی ترقی پسندی اور قوم پروری کی علامت کے طور پر شہرت رکھتے ہیں ۔ بھٹو شاہی میں افغانستان میں طویل جلاوطنی بھی کاٹ چکے ہیں اور افغانستان میں ایک حلقہ  اثر رکھتے ہیں ۔ وہ اس سیمینار سے قبل ہی وہاں تشریف لے جا چکے تھے ۔ ہمارے رفیق سفر ڈاکٹر مروت اور سنگین ولی خان مرحوم کے جواں سال صاحبزادے لونگین ولی خان تھے ۔ 

پاکستان کی نام نہاد قومی ائر لائن کی ایک پرواز پکڑنے کے لئے ہمیں اتنی جد وجہد کرنی پڑی جتنی تیتر کے نو مولود بچے کو پکڑنے کے لئے کی جاتی ہے ۔ 

صبح سوا سات بجے کی فلائٹ کے لئے ہمیں ڈاکٹر مروت صاحب کی طرف سے ایک شب قبل ہی یہ تجویز موصول ہو گئی تھی کہ فلائٹ “ انٹرنیشنل”  ہے وقت سے کم از کم آدھا گھنٹہ قبل پہنچنا ہوگا ۔ ہمیں ویسے بھی شب بیداری و شب خیزی کا عارضہ ہے ۔ اس تجویز کے بروقت موصول ہونے نے ہماری نیند غائب کردی ۔ صبح کاذب سے قبل ائر پورٹ روانہ ہوئے تو ہر راستہ بند پایا ۔ ائر پورٹ جانے والے جس راستے پر بھی گاڑی موڑی وہاں موجود وردی پوش نے واپس جانے کا اشارہ دیا - کچھ عجیب قسم کی صورت حال تھی ۔ائر پورٹ کسی طرح پہنچ گئے اور یہ جان کر نہایت مسرت ہوئی کہ زندگی میں پہلی مرتبہ ہم سب سے پہلے پہنچے ہیں ۔ ڈاکٹر مروت صاحب ہمارے بعد پہنچے ۔وہ آئے تو انہیں لونگین ولی خان کا فون موصول ہوا کہ وہ تو ایک گھنٹے سے وی آئی پی لاونج میں انتظار کر رہے ہیں ۔ یعنی وہ فوقیت ہماری چند لمحوں کے کیف سے زیادہ نہ رہی ۔ 

مقررہ وقت پر جہاز کی طرف روانہ ہوئے تو سامنے ایک چھوٹا سے جہازنظر آیا جو بادی النظر میں ڈرون لگ رہا تھا ۔ کیونکہ اس قدر چھوٹا جہاز ڈرون ہی ہو سکتا تھا تاہم اس میں میزائلوں کی جگہ مسافروں کو ٹھونسا گیا تھا ۔ حیرت اس بات پر ہوئی ایک ہی جھٹکے میں جہاز فضا میں بلند ہو ا جو ہمارے تجربے کے بر عکس تھا ۔ یہ برقی پرندہ تو اڑان سے قبل کافی دوڑتا ہے لیکن اس ننھے جہاز کو شاید ایسی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہم 40 منٹ میں پہنچیں گے ۔ کابل ائر پورٹ پہنچے تو فضائی میزبانوں کی جانب سے دی گئی چائے کی پیالی ابھی آدھے باقی تھی ۔ ہم نے حساب لگایا تو آٹھ بجنے چاہئے تھے لیکن ائر پورٹ کی گھڑی میں ساڑھے سات  بج رہے تھے ۔کابل اور پشاور کے درمیان آدھا گھنٹہ ہم گنوا چکے تھے 

(جاری هے)

Wednesday, 3 March 2010

آرٹیکل 251کی قومی زبان اور اعدادوشمار

گزشتہ چند کالموں میں ہم نے اردو کو رابطے کی زبان یالنگوا فرانکا قرار دینے کی اس بحث کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے جس کی بنیاد سینئر صوبائی وزیر جناب بشیر احمد بلور نے جمعے اور ہفتے کی درمیان شام صوبائی اسمبلی میں رکھی تھی اور جن کی اس جرات رندانہ پر ابھی تک ہم جھوم رہے ہیں جب انہوں نے قرار دیا تھاکہ قومی زبان پشتو ہے اردو نهیں ۔ 

یہ ایک بین حقیقت ہے کہ اردو بولنے والوں کی تعداد اس ملک میں بسنے والی بڑی اقوام یعنی پختون ، سندھی ، پنجابی اور بلوچ کے مقابل اتنی ہی ہے یا شاید اس سے بھی کم جتنی کراچی میں فارسی بولنے والوں کی ہے ۔یہ بات چونکہ اعداد وشمار کی ہے اس لئے ضروری ہے کہ استفادے کے لئے حوالوں سے رجوع کیا جائے ۔

پاپولیشن سینس ارگنائزیشن کے مطابق پاکستان میں اردو بولنے والے افراد کی تعدا د 7.57فیصد ہے ‘پاکستان کی 44.15فیصد آبادی پنجابی بولتی ہے ‘یہاں رہنے والے 14.1فیصد لوگ سندھی بولتے ہیں ، پشتو بولنے والوں کا تناسب 15.42فیصد ہے ،بلوچی زبان 3.57فیصد لوگ بولتے ہیں ‘سرائیکی 10.53فیصد لوگوں کی زبان ہے جبکہ باقی 4.66فیصد لوگ مل کر دوسری زبانیں بولتے ہیں ۔ یعنی پاکستان کی حکومت ہی کے مطابق پشتو اس سرزمین کی دوسری بڑی زبان ہے جو مملکت خداداد کہلائی جاتی ہے۔

ہمارے صوبے میں اردو بولنے والے 0.78فیصد ہیں ‘پنجاب میں اردو بولنے والوں کی تعداد کل آبادی کا 4.51فیصد ہے ‘ بلوچستان میں اردو بولنے والے افراد 0.97فیصد ہیں ‘فاٹا میں اردو0.18فیصد لوگوں کی زبان ہے- واحد سندھ ایسا صوبہ ہے جہاں اردو بولنے والوں کی تعداد ڈبل فگر میں ہے یعنی عدد ہے ہندسہ نہیں ۔ 

ادارے کے مطابق صوبہ سندھ میں اردو بولنے والے لوگوں کی تعداد کل آبادی کا 21.05فیصد ہے ۔ یوں دیکھا جائے تو 1998ءکی مردم شماری کے مطابق ایک کروڑ سے کچھ زائد لوگ اس ملک میں اردو بولتے ہیں ۔ اب کہا جارہا ہے کہ آبادی کا فگر سترہ کروڑ تک پہنچ چکا ہے اس حساب سے ایک کروڑ اردو بولنے والوں کی تعداد کو دگنا کردیجئے حالانکہ یہ صحیح تناسب سے زیادہ ہوگا لیکن پھر بھی دیکھ لیجئے کہ اردو بولنے والوں کے مقابل اردو نہ بولنے والوں کی تعداد پندرہ کروڑ ہی رہے گی (جوہم صرف فرضی طور پر کہہ رہے ہیں حقیقت میں ایسا ممکن نہیں) اور یہ فرق ایک آدھ یا دو تین کروڑ کا نہیں پورے تیرہ کروڑ کا ہے ۔ 

یعنی اسی اندازے سے دیکھیں تو 1998ءکا سارا پاکستان ہی اردو نہ بولنے والا بن جاتا ہے ۔ اس کے باوجود اردو کے قومی زبان بنائے جانے کے اسرار و رموز اور اس کو مقدس لبادہ اوڑھانا قابل فہم نہیں ۔ 

اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بھارت میں پانچ کروڑ بیس لاکھ لوگ اردو بولتے ہیں ۔ وہاں اردو دیگر زبانوں کے مقابل کبھی عدم تحفظ کا شکار نہیں ہوئی ۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ بھارت کی کوئی قومی زبان نہیں البتہ ہندی زبان دیوناگری رسم الخط کے ساتھ اس کی سرکاری زبان ہے ۔ علاوہ ازیں ہر ریاست کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنی مقامی زبان کو ریاستی زبان قرار دے کر انتظامی استعمال میں لائے ۔ عجیب بات یہ ہے کہ وہاں کسی نے یہ نکتہ نہیں اٹھا یا کہ ہندی کی موجودگی میں کسی بھی دوسری زبان کو ریاست کی زبان قرار دینا بھارت دشمنی ہے ۔ مثلاً تامل ناڈو کی زبان ہندی نہیں بلکہ تامل ہی ہے ، آندھرا پردیش کی ریاستی زبانوں میں سے ایک زبان اردو بھی ہے اسی طرح دہلی کی بھی ریاستی زبان اردو ہی ہے لیکن نہ تو اس بات پر ملک توڑنے کی بات ہوئی ہے اور نہ ہی یہ کہا گیا ہے کہ اردو کو ریاستی زبان بنانے والوں نے دراصل پاکستان پرستی کا ثبوت دیاہے ۔ ان کا آئین یہ بھی کہتا ہے کہ ریاستی زبانیں بھی بھارت کی سرکاری زبانیں تصور ہوں گی یوں کل ملا کر بھارت کی سرکاری زبانوں کی تعداد اٹھارہ بنتی ہے جن میں اردو کے ساتھ ساتھ سندھی بھی شامل ہے ۔ 

ہمارے ہاں اگراردو کے سوا کسی بھی دوسری زبان کے ساتھ وابستگی قابل تعزیر ٹھہری ہے تو اس میں پاکستان کے ابتدائی برسوں کے تجربات کے ساتھ ساتھ نصاب میں اردو کا بطور لازمی مضمون شامل ہونا بھی ایک وجہ ہے ۔ اردو کو رابطے کی زبان کے حوالے سے اہمیت دینے پر پاکستانی حکومتوں کا زور دینا کسی انتظامی مصلحت یا لنگوا فرانکاکی حکمت کے پیش نظر اگر ضروری سمجھا جاتا تو اس میں کوئی ایسی بری بات بھی نہیں تھی- حکومت کا فرض ہے کہ وہ رابطے کے مقاصد کے لئے ایسی کاوشوں کی حوصلہ افزائی کرے لیکن المیہ یہ واقع ہوا کہ ایک طرف اردو کا عشق بمنزلہ ایمان متعارف کرایا گیا تو دوسری طرف صوبہ پختونخوا میں بولی جانے والی 73.9فیصد پشتو ، صوبہ سندھ میں 59.73فیصد بولی جانے والی سندھی ، پنجاب میں 75.23فیصد بولی جانے والی پنجابی اور بلوچستان میں 54.76فیصد بولی جانے والی بلوچی زبانوں کو علاقائی یا مقامی زبانیں بنا دیا گیا ۔ 

پاکستانیوں کو ایک قوم قرار دینے والوں نے عملی طور پر اتنا بھی نہ کیا کہ مختلف وفاقی اکائیوں میں بولی جانے والی زبانوں کو ایک نصاب کا حصہ بنادیتے کہ ایک صوبے کے لوگ اگر دوسرے صوبے جائیں تو کم ازکم یہ تو جان سکیں کہ ہوٹل کہاں ہے سٹیشن کہاں ہے ہسپتال کہاں ہے وغیرہ ۔ یہ کس قدر بڑا لطیفہ ہے کہ چاروں وفاقی اکائیوں کو تو اس بات کا پابند بنا دیا گیا ہے کہ انہیں بہر صورت اردو پڑھنی ہوگی لیکن ان کی اپنی زبانیں ابھی تک لازمی مضامین کی حیثیت اختیار نہیں کرسکیں ۔ مطلب یہی ہوا کہ خواہ آپ کو اپنی زبان آتی ہو یا نہیں لیکن آرٹیکل 251کی قومی زبان پر عبور آپ کو ضرور حاصل ہونا چاہئے ، مزید سختی یہ کی گئی کہ نصاب کو مرکزیابھی دیا گیا کسی بھی وفاقی اکائی کو خود سے تعلیمی نصاب کی تشکیل سے روک دیا گیا۔ ایسی صورت میں اگر پاکستانی زبانیں پشتو ، سندھی ، پنجابی اور بلوچی قومی زبانیں نہ بن سکیں اور اردو کو زبردستی اس مقام پر فائز کردیا گیا تو اس میں دیگر زبانوں کا قصور ہی کیا ہے ؟

 اس سے اس حقیقت کی نفی تو بہر حال نہیں ہوسکتی کہ اردو اس ملک میں رہنے والوں کی اکثریتی زبان قطعاً نہیں بلکہ سچائی تو یہ ہے کہ اردو اس ملک میں رہنے والی اس محدوداقلیت کی زبان ہے جو روزاول سے اقتدار کی ساجھے دار ہے اور پشتو و دیگر صوبوں کی زبانیں اس لئے قومی زبانیں قرار نہیں پاسکیں کہ ان زبانوں کے نام لیوا حب الوطنی کی سرٹیفیکیٹوں سے محروم رہے ورنہ جب بشیر احمد بلور صاحب زبان کی بنیاد پر ایک محرومی کا ذکر کررہے تھے تو اکرم دررانی صاحب کو یہ کہنے کی حاجت ہی پیش نہ آتی کہ“ اے این پی والوں نے تو ابھی تک دل سے پاکستان کو تسلیم ہی نہیں کیا” ۔