حرف به حرف

زلان مومند پختونخوا کے صحافی اور کالم نگار ہیں۔ ان کا کالم حرف بہ حرف کے عنوان کے تحت صوبے کے ممتاز اخبارات میں باقاعدگی سے شائع ہوتا رہا ہے۔ یہ بلاگ ان کی گزشتہ تحاریراور تازہ تخلیقات کا انتخاب ہے

Monday, 1 March 2010

اردو ہے جس کانام ہمیں جانتے ہیں داغ !!!

ریختہ ، کھڑی بولی ، پنجری ، دکنی ، ہندوستانی ، اردوئے معلی یا آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 251کی قومی زبان اردو دراصل وہی تیسری زبان تھی جو لنگوا فرانکاہونے کی وجہ سے ہندوستان کی سیاسی و ادبی قیادت کو ابلاغ کے لئے اپنانی پڑی ۔ ایک تو اس کے ساتھ انگریزوں کی انسیت ابتدا ہی سے فورٹ ولیم کالج کی شکل میں سامنے ا ٓگئی تھی دوسری یہ بات تھی کہ اس زبان میں ہر زبان کا تڑکا کافی سہولت سے لگتا تھا اور سما بھی جاتا تھا ۔

یہ کام شروع تو سرسید احمد خان نے کیا تھا لیکن اردو صحافت نے اس آمیزش کو برق رفتاری بخشی ۔ بہرحال اردو کی قبولیت اور آمادگی کے مزاج کا کرشمہ تھا کہ جناح صاحب ،جو خود گجرات سے تعلق رکھتے تھے اور جنہیں اردو اس زمانے کے انگریز حکام سے کم ہی آتی تھی ،اردو کو مذہبی تقدس کے مقام پر لے گئے ۔ 

ہوا یہ کہ 1937میں لکھنو میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں جب اردو کومسلم لیگ کے اجلاسوں کے دوران لنگوا فرانکا کے طور پر قبول کرنے کی قرارداد آئی تو بنگال کے وفد نے اس کی کھل کر مخالفت اس دلیل کی بنیاد پر کی کہ اردو کو مسلم لیگ کی دفتری زبان بنانے سے مشرقی ہند میں یہ سیاسی جماعت (سیاسی جماعت؟) اپنی افادیت کھودے گی ۔ 

یہ الگ بات کہ مسلم لیگ کے صدر جناح صاحب نے دفتری مقاصد کی ساری خط کتابت انگریزی میں کر رکھی ہے اور اس کا ثبوت اگر ایک طرف لنڈن کی انڈیا آفس لائبریری میں موجود ہے تو دوسری طرف جناح پیپرز بھی اسی حوالے کے لئے دیکھے جاسکتے ہیں ۔ بنگال کے وفد کی یہ دلیل اس وقت بادل نخواستہ قبول کر لی گئی اور اس کی ایک وجہ بڑی ٹھوس تھی ۔ وجہ یہ تھی کہ اگر بنگال کے مسلم لیگیوں کو ناراض کردیا جاتا تو مسلم لیگ کی ساکھ شدید متاثر ہوتی کیونکہ یہ بنگال ہی تھا جہاں مسلم لیگ قائم ہوئی تھی اور جہاں مسلم لیگ کو رائے دہندگان کی نظر میں کوئی قبولیت حاصل تھی ۔

لیکن جناح صاحب اردو کے عشق سے دستبردار نہیں ہوئے تھے ۔ اردو کے بابا مولوی عبدالحق نے پہلے ہی قرار دے دیا تھا کہ مسلمانوں کی زبان صرف اور صرف اردو ہے ۔ یہ الگ بات کہ انہی کی بنائی ہوئی تنظیم انجمن ترقی  اردو کے پہلے صدر پروفیسر آرنلڈصاحب تھے ۔ 1948ءمیں جب پاکستان کی حکومت نے جناح صاحب کی سرکردگی میں یہ اعلان کیا کہ اردو ملک کی سرکاری زبان ہوگی تو مشرقی بازو ( جو 1971ءمیں ٹوٹ گیا تھا) میں ایک طوفان امڈآیا ۔ یہ جناح صاحب کی زندگی ہی کی بات ہے ۔ ڈھاکہ میں مظاہرے شروع ہوئے تو بنگلہ بھاشا کے عشاق پورے مشرقی پاکستانی میں سڑکوں پر نکل آئے ۔ بجائے اس کے کہ اس آگ کو بجھایا جاتا جناح صاحب ڈھاکہ پہنچ گئے اور وہاں انہوں نے فضائل ِ اردو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ“اردو اور صرف اردو ہی پاکستان کی سرکاری زبان بننے کی اہلیت رکھتی ہے کیونکہ صرف اردو ہی مسلم قومیت کی روح رکھتی ہے اور جولوگ لسانی بنیاد پر تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں وہ دراصل اس ملک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں اور ملک دشمن ہیں ” ان کی اس تقریر کا بنگالیوں پر بڑا گہرا اثر ہوا ۔ پورے بنگال میں بنگلہ بھاشا انڈولن کی تنظیمیں بن گئیں ۔

اس دوران آئین ساز اسمبلی کے بنگالی ارکان نے اپنی سی ایک کوشش کرکے مسئلے کو ٹھنڈا کرنے کی سعی کی اور آئین ساز اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی کہ اسمبلی میں آئین سازوں (یعنی ارکان کو ) کو بنگالی میں بھی بولنے کی اجازت دی جائے لیکن شہید  ملت صاحب نے یہ کہہ کر قرارداد ویٹو کردی کہ اردو کی بجائے بنگالی بولنا ملک دشمنی اور ملک شکنی ہے ۔ اس کے بعد زبان کی محبت میں بنگالی اندھے ہوگئے ۔ انہوں نے مظاہرے شروع کردئے اور پاکستان کی پولیس نے ان پر گولیاں چلانا ۔ 

پھر 21فروری 1952کا وہ دن بھی تاریخ نے دیکھا جب نہتے بنگالی طلبا ءزبان کی محبت میں زندگی کی بازی پولیس کی گولیوں کے آگے ہار گئے ۔ یونیسکو نے ان شہدائے لسان مادر کی یاد میں اس دن کو مادری زبانوں کا عالمی دن قرار دیا ۔ دلچسپ واقعہ ہے کہ پاکستان میں بھی یہ دن منایا جاتا ہے ۔ اس سے بھی دل چسپ بات یہ ہے کہ جب 1956ءکا آئین بنایا گیا تو اس میں بنگلہ بھاشا کو سرکاری زبان تسلیم کرلیاگیا ۔ یہی وجہ ہے کہ بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمن کو اپنے مشہور چھ نکات کے دیباچے میں لکھنا پڑا کہ یہاں ہمارا ہر مطالبہ اس وقت تسلیم کیا جاتا ہے جب اس کے لئے بنگالی اپنا خون بہادیں ۔ ایک وفاقی مملکت میں ایسی تفریق کہ ارکان مقننہ تک اپنی زبان بولنے کے استحقاق سے محروم ہوںوہ شکست و ریخت کا باعث نہ بنے تو کیا بنے ؟ ایک ایسی صورت میں جب مشرقی بازو میں زبان کے مسئلے پر ان پڑھ لوگ بھی مر رہے ہوں اور مغربی بازو میں اردو کے بابا مولوی عبدالحق جیسے عالم و فاضل لوگ اردو کے لئے خون بہانے پر ریاست کی تعریف کرتے ہوں اور کراچی و لاہور میں ریلیاں نکال رہے ہوں، دو وفاقی اکائیوں کا اکھٹے چلنا ممکن ہی نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے یعنی مولوی صاحب نے اس وقت اردو کو قومی زبان بنوانے کا خواب دیکھا تھا جب قومی زبان کا مسئلہ ہی موجود نہ تھا ۔ اور اس قومی زبان کے قومی قرار پانے کا فائدہ ہی کیا جو دفتروں اور معیشت کی زبان نہیں ٹھہر سکتی ۔ ہاں البتہ اس جھگڑے سے بنگالیوں نے وہ سیاسی نتائج اخذ کئے جو 16دسمبر 1971ءکو ان کے ایک الگ ریاست کی صورت میں جامع طور پر سامنے آئے ۔

اگر پاکستان کے آغاز میں کسی تعصب سے کام نہ لیا جاتا اور بنگلہ بھاشا بھی سرکاری زبان قرار پاتی تو عین ممکن تھا کہ 16دسمبر کی تاریخ اور 1971ءکے سن کی اہمیت ہی نہ ہوتی ۔ آج جو لوگ بنگلہ دیش کی آزادی کو سقوط ِ مشرقی پاکستان اور سقوطِ ڈھاکہ قرار دیتے ہیں اور اس دن حکومتوں کو لعن طعن کا نشانہ بناتے ہیں انہیں شدومد سے یہ سوال بھی پوچھنا چاہئے کہ اردو کو اس کے حق سے زیادہ اور بنگالیوں کو ان کے مطالبات سے کم دینے میں کیا حکمت پوشید ہ تھی ؟

ہم کسی سیاسی محرومی کا کوئی حوالہ دینا نہیں چاہتے- ایسے حوالوں کی تعدا د بھی شمار و حساب سے باہر ہے لیکن کیا سات لاکھ چھیانوے ہزار چھیانوے مربع کلومیٹر اور سترہ کروڑ کی آبادی میں اتنا سچ بولنے اور سہنے کی کسی میں جرات نہیں کہ بنگالیوں کے ساتھ ان کے زبان کے حوالے سے نہایت ہی غیر منصفانہ رویہ رکھا گیا

جناب بشیر احمد بلور نے ماضی کا حوالہ دئے بغیر ماضی ہی کی ایک جھلک دکھائی ہے اس میں ناراض ہونے کی بات کہاں ہے؟

اب بھی ان کہی بہت ہیں ۔یارزندہ صحبت باقی ۔

Sunday, 28 February 2010

اردو ۔ایک پس منظر

تقسیم ہند سے قبل رابطے کی زبان اور پاکستان بننے کے 26سال بعد 1973ءکے آئین کے آرٹیکل 251کے تحت قومی زبان قرار پانے والی اردو تنازعات کا شکار رہی ہے ۔ ابتدا میں جب اردو کے حوالے سے کسی سیاست کا وجود نہیں تھا تب بھی سیاست کا ایک دخل اس زبان میں بہر حال تھا ۔ یہ نظریہ کہ برصغیر میں ایک سازش کے تحت اردو کو فروغ دیا گیا ہے اتنا بے بنیاد بھی نہیں ۔ جو لوگ اس کے سیاسی حوالے کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہندوستان میں انگریزوں کی آمد سے قبل فارسی کو دفتری زبان کا درجہ حاصل تھا ۔ دربار کی زبان بھی فارسی تھی اور شرفا ءکی بھی زبان فارسی تھی ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ اس زبان کو یکساں طور پر علمائے ادب اور طبقہ اشرافیہ کی سرپرستی حاصل تھی تو درست ہوگا ۔ ایسا نہ ہوتا تو آئین میں درج آرٹیکل کے تحت قومی زبان کے درجے پر فائز اردو میں یہ ضرب المثل موجود نہ ہوتی کہ  “پڑھے فارسی بیچے تیل” ۔  

گویا اس حوالے سے معمولی سا شائبہ بھی موجود نہیں کہ فارسی ہی وہ زبان تھی جسے سلطنت کے امور میں قدرت حاصل تھی اور حکمران بھی یہی زبان بولتے تھے ۔ اس زبان کا ایک کمال اور بھی تھا وہ یہ کہ فارسی مسلمانوں کی زبان تھی ۔ اس زبان کا ہندوستان میں موجود رہنا فرنگیوں کو اس لئے گوارا نہیں ہوسکتا تھا کہ ہندوستان کے مسلمان اسی زبان کے سہارے پڑوس میں ایران اور افغانستان سے بھی جڑے رہتے پھر ازبکستان تاجکستان یعنی وسطی ایشیا سے بھی ایک تعلق موجود رہتا اصل خطرہ بھی یہی تھا کہ وہ لوگ جنہیں ہندوستان کے تخت سے اتارنا اصل مقصد تھا کہیں پبلک ریلیشننگ کا طوفا ن کھڑا نہ کردیں اور میل جول ، تعلقات و باہمی مشترکات کے نتیجے میں پریشانیوں اور بحرانوں کے ذریعے انگریز سرکار کو عدم استحکام سے دوچار نہ کردیں ۔ اسی خیال نے سرکار انگلیشیہ کے دانشوروں کو یہ نکتہ سجھا دیا کہ سب سے پہلا وار اس مشترک زبان پر کیا جائے جو ہندوستان کو پڑوس کے مسلم ممالک سے جوڑتی ہے ۔ چنانچہ اس خیال کو عملی جامہ پہنایا گیا ۔ 

ایک ایسی زبان ابتدائی مراحل میں بہر حال موجود تھی جو نہ فارسی تھی اور نہ ہندی تھی بلکہ ان دونوں کا آمیزہ تھا ‘مشکل یہ درپیش ہوئی کہ اس کے رسم الخط کو اگر دیو ناگری روپ دیا جاتا تو اس میں اور ہندی میں فرق ہی نہ رہتا ۔اس سے ایک نئی سیاسی صف بندی ہوسکتی تھی یعنی اردو اور ہندی کا باہم اتحاد انگریز کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا تھا اس لئے یہ سوچا گیا کہ اسے فارسی رسم الخط بخشا جائے کہ ہندو اس سے دور رہیں اور مسلمان اس پر جان و دل سے نثار ہوتے رہیں ۔ کیونکہ فارسی سے بہرحال مسلمانوں ہی کا ناتہ تھا ۔ اس سوچ نے کانگریس اور مسلم لیگ کے قیام کے بعد کافی بھرپور طور پر انگریزوں کی مدد کی ۔
اردو ہندی تنازعہ نے برصغیر کا سکھ چین کئی دہائیوں تک لوٹ رکھا تھا ۔ 

انگریزوں نے اردو کی ترقی میں ویسے ہی دل چسپی نہیں دکھائی تھی ان کا ہر فیصلہ سیاسی تشریح کا حامل تھا ورنہ ہندوستان میں کل ملا کر 35زبانیں اور سینکڑوں بولیاں بولی جاتی ہیں لیکن فورٹ ولیم کالج نے اردو پر ایسی نظر کرم کا اظہار کیا کہ اس کی مثال نہیں ملتی ۔ یہ تو آغاز تھا- مستشرقین کی ایک اچھی خاصی تعدا د نے اردو کے ساتھ وہ رومانویت جھاڑی ہے کہ اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا ۔ اردو ڈکشنری بورڈ تو قیام پاکستان کے بعد قائم ہوا، انگریزوں نے تو 1884ءمیں جون ٹامسن پلاٹس کے ہاتھوں ایسی لغت مرتب کروا لی تھی جو ان کی صدیوں کی ضروریات کے لئے کافی تھی جبکہ 1912ءمیں اردو کا ٹائپ رائٹر بھی وجود میں آگیا ۔

انگریز اردو ہی میں اپنی بقا کو ڈھونڈتے تھے تو اس میں ایسی نہ سمجھنے والی کوئی بات نہیں ۔ مسلم لیگ کے زعماءکی تعداد صرف شروع کے چند برسوں میں بنگال سے رہی ہے۔ بعد میں اس کی کمان دلی ، بہار ، اتر پردیش ، دکن ،آندھرا پردیش وغیرہ میں ہی رہی اور جن مسلم لیگی عمائدین کا تعلق پنجاب ، چندی گڑھ ، کشمیر،گجرات، مہاراشٹر وغیرہ سے تھا ان کے لئے رابطے کی زبان اردو ہی تھی ۔ اس نظرئیے پر ایک اعتراض یہ بھی عائد کیا جاتا ہے کہ اگر اردو انگریز کی سازش ہے تو میر و غالب کس سازش کے بطن سے پیدا ہوئے ۔ اس اعتراض میں وزن ہے اور اسے بغیر جواب کے چھوڑا بھی نہیں جاسکتا ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ولی دکنی سے میر و سودا تک کی اردو وہ اردو نہیں جو آج کل ہم آپ بول اور سمجھ رہے ہیں ، اس زمانے میں اردو اور ہندی کا باہمی فرق کچھ تھا ہی نہیں ‘اکثر تراکیب و الفاظ ہندی ہی کے زیرِ استعمال تھے ہندی کے کلاسک شعرا کا رنگ ان ابتدائی اردو شعراء پر بھی غالب تھا سچی بات تو یہ ہے کہ اردو کا نام تک موجود نہ تھی کوئی اسی دکنی کہتا تھا تو کوئی کھڑی بولی اور کوئی ریختہ و پنجری ‘ بیسویں صدی کے اول ربع تک تو اسے ہندوستانی بھی کہا گیا ہے ۔جہاں تک غالب کی بات ہے ان کے بارے میں یہ بات نئی نہیں کہ انہیں اپنی اردو شاعری سے کوئی انسیت نہیں تھی نہ ہی ان کی ریختہ گوئی ان کے لئے کوئی مقام فخر تھا بلکہ وہ اپنی فارسی شاعری ہی کو اپنی نمائندگی کے قابل سمجھتے تھے ۔ اس زمانے کے تقریباً تمام تعلیم یافتہ شاعروں نے اردو کے ساتھ ساتھ فارسی میں شاعری کی ہے ۔ بہادر شاہ ظفر خود اردو میں شاعری کرتے رہے لیکن ان کی( غیر مقبول و غیر معروف سہی )شاعری فارسی میں بھی موجود ہے 


ان دلائل کے باوجود یہ بات جواب طلب ہے کہ آخر فرنگیوں نے اس زبان کی پرورش کو کیوں مذہبی فریضہ جان کر پورا کیا ؟انگریزوں کی آمد ہی کے بعد کا ذکر ہے کہ اردو صحافت کا آغاز ہوا اور اردو میں کتب کی اشاعت کا سلسلہ آغاز ہوا۔ غیر منقسم ہندوستان میں سیاسی سرپرستی میسر آنے پر اردو نے ایسی ترقی کہ ہزار ڈیڑھ ہزار سال پرانی زبانوں کو پیچھے چھوڑ دیا ۔ ایک وجہ اس کی یہ بھی تھی کہ ہندوستان کے ہر حصے سے لکھنے والوں نے اس زبان میں ضرور کچھ نہ کچھ لکھا ۔ یہاں تک کہ پختون (جو جنوب ایشیائی کسی طور نہیں ) بھی اس زبان کو بروئے استعمال لاتے رہے اس کی وجہ اس زبان سے ہندوستان اور قریبی اقوام مثلاً پختونوں کا کوئی انس نہیں تھا بلکہ اصل وجہ یہ تھی کہ اردو سیاسی وجوہات کی بنیاد پر لنگوا فرانکاکا روپ دھار چکی تھی ۔ اور پشتو کو قومی زبان کہنے پر محترم بشیر بلور کو مورد الزام ٹھہرانے والے یہ جانتے نہیں تو ہم بتا دیتے ہیں کہ لنگوا فرانکااس رابطے کی زبان کو کہا جاتا ہے جو کسی بھی دو اقوام یا افراد کے درمیان ذریعہ ابلاغ ہو اور جو دونوں کی مادری زبان نہ ہو بلکہ ”تیسری زبان “ ہو ۔ کالم ابھی باقی ہے میرے دوست!!!

Saturday, 27 February 2010

بشیر بلور زندہ باد

پیش نوشت :اس سے قبل کہ ہم اس موضوع کی طرف براہ راست بڑھیں اور اپنے خیالات کا اظہار کریں ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ پہلے ان جذبات تحسین و ممنونیت کا فائق اظہار کریں جو جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب سے ہم اپنے محترم اور بزرگ جناب بشیر احمد بلور کے لئے محسوس کر رہے ہیں ۔ انہوں نے پشتو کو قومی زبان کہہ کر اس صوبے کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے پارلیمانی لیڈر ہونے کا حق ادا کردیا ہے ۔صوبائی اسمبلی کے فلور پر انہوں نے جس جرات و پامردی سے اس موقف کا دفاع کیا ہے اور جس دھڑلے سے اس پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے اسے ہم عوامی نیشنل پارٹی کی ہی نہیں بلکہ پوری قوم (اس بات کی وضاحت کی ضرورت نہیں کہ ہم جب قوم لکھتے ہیں تو اس کا مطلب صرف اور صرف پختون قوم ہوتا ہے ) کی خوش بختی سمجھتے ہیں ۔ پاکستان کے آئین میں چاہے اس بات کا اندراج ہو یا نہ ہو مگر جناب بشیر احمد بلور نے جس درد اور جذبے سے پشتو کے قومی زبان ہونے کی دلیل دی ہے اس پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے کہتے ہیں کہ 

آفریں باد بریں ہمت مردانہ  تو ......اور..... ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند
اسے افسوس اور سخت افسوس سے زیادہ کس لفظ سے تعبیر کیا جائے کہ اس صوبے کے نجیب الطرفین پختون سیاسی اکابرین پشتو کو قومی زبان کہنے پر چراغ پا ہوئے ہیں اور اس قدر شدت سے ہوئے ہیں کہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی دھمکی بھی دے رہے ہیں ۔ ایک اخبار نے لکھاہے کہ بلور برادران نے ہمیشہ متنازعہ باتیں کی ہیں ۔قائد ِ حزب اختلاف جناب اکرم خان دررانی نے تو یہ بھی کہہ دیا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی نے ابھی تک پاکستان بھی تسلیم نہیں کیا (گویا اردو کو قومی زبان نہ ماننا پاکستان ہی سے بغاوت ہے .....ماشاءاللہ) ۔ مفتی کفایت اللہ صاحب اور سکندر لودھی صاحب نے بھی اردو کی قومی حیثیت سے انکار پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ ان سب سے بڑھ کر پختونخوا تڑون کے کنوینر جناب سکندر شیر  پاوصاحب کا بیان بھی آیا ہے جو کہتے ہیں کہ بشیر بلور کا بیان سنگین آئینی خلاف ورزی ہے ۔           

پشتو کے معاملے پر دیگر سیاسی جماعتوں کی غیر حساسیت سے یہ بات تو ثابت ہوگئی ہے کہ پختونخوا کے معاملے پر بھی ان کی حساسیت صرف ایک دکھاوا بلکہ سیاسی کرتب کے سوا کچھ نہیں ۔ جو لوگ پشتو کے معاملے میں کسی غیرت قومی سے عاری ہیں ان کا پختونخوا کے مسئلے پر جذباتی ہونا کوئی وقعت ہی نہیں رکھتا ۔ خصوصاً وہ پختون اہل قلم جو جناب سکند رشیرپاوکی ذات میں ایک قوم پرست سیاست دان ڈھونڈ رہے تھے یا جو اکرم دررانی کی جانب سے سال 1997ءکے ماہ نومبر میں اسی صوبائی اسمبلی میں پختونخوا سے بھی دو چار ہاتھ آگے کی بات یعنی پختونستان کی قرارداد پیش کرنے پر انہیں بھی قومی درد سے بھرپور سمجھ رہے تھے وہ سب سچائی سے آشنا ہوگئے ہوں گے یہ بات تو صاف ہوہی گئی کہ ان دونوں صاحبان کا اس خاص مسئلے سے کوئی تعلق نہیں 

علاوہ ازیں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو پختون قوم پرست سیاست کے منجدھار سے الگ ہوکر جناب سکندریا آفتاب شیرپاوکے کاندھوں پر سر رکھ سسکیوں لے لے کر رو رہے تھے انہیں بھی سکندر شیرپاو صاحب کے اس بیان سے پتہ لگ گیا ہو گا کہ اصل اور نقل میں فرق کیا اور کتنا ہے ؟جناب بشیر احمد بلور نے اگر اردو کو رابطے کی زبان قرار دیا ہے تو یہ کوئی انکشاف نہیں ۔ ان سے بہت پہلے ادیب اور دانش ور اس بات پر متفق ہوگئے تھے کہ حقیقت کچھ ایسی ہی ہے ۔ یہ جنرل ضیاع کے دور کی بات ہے جب وہ اہل قلم کانفرنسز منعقد کرواتے تھے ۔ پروفیسر پریشان خٹک اکادمی ادبیات کے چیئرمین ہوا کرتے تھے ۔ اس زمانے میں شاید جب پانچویں یا چھٹی اہل قلم کانفرنس ہورہی تھی اور پشتو سمیت سندھی کو بھی علاقائی زبان کہا گیا تو دونوں وفاقی اکائیوں کے دانش ور سراپا احتجاج بن گئے ۔ انہوں نے یہ بات منوا ہی لی کہ پشتو ، سندھی ، پنجابی اور بلوچی علاقائی زبانیں نہیں بلکہ پاکستانی زبانیں ہیں ۔ 

اس سے بھی زیادہ قوی دلیل کیا ہوسکتی ہے کہ پاکستان کی چار وفاقی اکائیاں ہیں جن میں سے کسی بھی وفاقی اکائی کی زبان اردو نہیں ۔ سندھ کے دارالحکومت کراچی اور حیدرآباد میں اس زبان کی سیاسی نمائندگی کے حوالے سے اسے قومی زبان سمجھنا ایک طرف تو وفاقیت کے اصولوں پر مبنی بات نہیں ، اور پھر یہ بات کیسے فراموش کی جاسکتی ہے کہ فی الوقت پاکستان کا آئین ایک عبوری دور سے گزر رہا ہے ، پارلیمنٹ میں موجود ساری سیاسی جماعتیں اس حقیقت کا ادراک کرچکی ہیں کہ اس آئین میں بہت ساری باتیں ازکاررفتہ میں شمار ہوچکی ہیں یہی وجہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں نے آئین کی اصلاح کی نیت سے ایک آئینی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی قائم کررکھی ہے جس کے آگے آئین کا مسودہ ترامیم اور اصلاح کے لئے موجود ہے ۔ ہمیں تو اس بات کی بھی سمجھ نہیں آتی کہ جب ہندی اردو تنازعہ کھڑا ہوا تھا تو اس وقت اردو کے وکلاءنے یہ بات باربار کہی تھی کہ اردو رابطے کی زبان ہے اور قیام پاکستان کے بعد بھی ہمارے زمانہ طالب علمی تک درسی کتب میں یہ بات شامل تھی کہ اردو پاکستان میں رابطے کی زبان ہے مگر کسی نے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا لیکن آج ایک نان ایشو کو ایشو بنایا جارہا ہے ۔ 

جو لوگ اردو کو پاکستان اور اسلام سے ملا کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں انہیں اس بات کا اندازہ ضرور ہونا چاہئے کہ 19مارچ 1948ءکو ڈھاکہ کے ریس کورس گراونڈ اور صرف ایک دن بعد یعنی 21مارچ کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے کرزن ہال میں جب جناح صاحب نے اردو اینڈ اونلی اردوکی بات کہی تو دونوں جگہوں پر بنگالیوں کا ردعمل کیا تھا ؟وہ صاحب جو شیربنگال کہلاتے ہیں اور ہمارے نصاب میں بھی جن کا ذکر نہایت طمطراق سے ہوتا ہے وہ جناح صاحب کی آمد کے وقت ہسپتال میں صرف اس لئے پڑے ہوئے تھے کہ انہوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی کے ان طلبا ءکے ساتھ مل کر پولیس سے مار کھائی تھی جو اونلی اردوکے وکلاءکے سامنے ڈٹ گئے تھے ۔ اور اسی استقامت کا نتیجہ تھا کہ بنگالی زبان نے بالآخر اپنے لئے ایک وطن کی تخلیق کو منزل سمجھ لیا اور پھر یہ منزل پابھی لی ۔ زبان کی اس بحث کو یہیں پر نہیں چھوڑا جاسکتا ۔ ابھی بہت ساری باتیں باقی ہیں اور پشتو(ہماری قومی زبان) کا حق ہے کہ اس کے کیس کی مزید وکالت کی جائے

Monday, 5 October 2009

Not Just Another Preacher

In the early years of the previous century, Tagore and Kipling both had mentioned Pakhtun characters in their writings, and both had presented them as the fierce and ferocious men in their emotions and acts.[1] Numerous references with negative connotation to the violent and volatile nature of our nation can be found in various other compositions, as well. For instance, as Pyarelal in Thrown to the Wolves – his far famed work on the non-violent struggle of Baacha Khan -- has quoted the following from Fielding King-Hall’s Thirty Days of India, “One Pathan was sitting on the ground listening intently to a radio broadcasting programme while his neighbor continued to chatter. The first man told the talker to shut up, but the later observed that he had as much right to speak as ‘that loud mouth over there’. The radio fan promptly switched off the human ‘loud speaker’ by sticking a knife into his ribs” [2]

However, the most interesting accounts of Pakhtuns and Afghans’ natural traits can be found in the declassified secret reports and official correspondences preserved in the India Office Library in UK. We have seen a few glimpses of the same in Baacha Khan aur Khudaayi Khidmatgaari of Khan Abdul Wali Khan. One line that he has quoted is particularly interesting and holds relevance even today: it has been taken from a letter dated 10.11.30 by Lord Irvin to the then Secretary of State for India,

“This corner of the earth is as troublesome as it is tiny and occupies a share of my attention and no doubt yours also out of all proportions to it’s size” [3]



Ten years had passed to the adoption of non violence by Baacha Khan, and twenty to the launching of his movement for the social reform of his people, when this letter was written. Twenty one years from now will complete the century of this correspondence, and this corner of the earth continues to be as troublesome to the outer world, and it still occupies a huge share of world’s attention. The difference, however, is that in those early years the irritating matter for the western colonial rulers of our region was the non violence that our great leader Khan Abdul Ghaffar Khan not only advocated and taught to his followers but personally practiced in the most aggressive manner; while today we are living in conditions where violence has been imposed on us.

The non violent philosophies of passive resistance, pasificism, ahinsa, and most recently the theories of nonkilling by Glenn D Paige – all have more protagonists and preachers and fewer practitioners. The Pakhtun nation is very fortunate that the most enthusiastic practitioner and teacher of non violence was born among them. He came from a very affluent family, but his heart ached for the commoners. He chose to become one of them. He never confined himself to the stage or podium where he could pay only lip service to the cause he wanted his people to stand for. He always reached out to all of his people.

In this context one incident narrated by Khan Abdul Wali Khan in his book Baacha Khan aur Khudaayi Khidmatgaari is particularly moving. At the start of his political career, Wali Khan was made to visit Karak area along with a thousand companions. The weather was hot and they had to go there on foot. The areas chosen for their visit were arenaceous, and it was the month of Ramadan, which means they had to be on the move in hot sands while fasting from early morning till late in the evening. Wali Khan says that he got blisters on his feet on the second day of the journey, and he would walk bare footed on the hot sands as he was unable to wear his shoes because of his blisters. The area was sparsely inhabited, and the villages were situated at long distances. One day, after a long and tiring journey, they reached a tiny village and stopped at a mosque where a charpai was lying close to a tree. Wali Khan writes that exhausted from the journey, he immediately lied down on the charpai. His companion in the journey was a close associate of Baacha Khan. He heard the groans of Wali Khan and told him that he distinctly remembers that once Baacha Khan had also visited the same village in the same weather and under the same conditions, and he had also stopped at the same mosque. Just when he sat down on the charpai, he saw rising smoke on the nearby hill. He asked the imam-e-masjid if there was another village up there. The imam replied in negative and told that there was only one house on the hill where a single man lived. Upon hearing this, Baacha Khan immediately got up and said to his companion that he wanted to go to the man on the hill. The imam tried to assure Baacha Khan that his message would be conveyed to the man when he would come down to attend the Jumma prayers. However, Baacha Khan still went up the hill to meet him saying that he did not want that man to feel neglected.[4] Such was his zeal for the propagation of his philosophy through personal interactions with his people.







In rallies and in protest marches where the authorities would order to bludgeon and baton charge the protestors, he was always there to take the hits. Whenever there was a spate of arrests, he would be among first of the arrested. His arrests and incarceration were most humiliating and most painful ever borne by any leader of his stature. During the Quit India Movement, he was beaten hard before he was arrested and taken to Hari Pur Jail from a protest rally. He had received severe injuries; his ribs had been broken . The man, who preached and practiced non violence, was himself subjected to worst forms of violence.

When he was first arrested, he was taken to the jail handcuffed and throughout the period of his confinement, he had fetters. There were no fetters to fit his legs. The pair they had chosen for him had wounded him badly. While they were putting it on him, the portion of his leg above the ankle had bled profusely. He was told that he would get accustomed to it soon.[6] The cell where he was kept stunk. The earthen sanitary pan there was full to the brim with feces. When he was taken there he immediately stepped out and told the officer that the stink was unbearable. The officer pushed him inside and locked the door. Not for a second was he allowed to go out of that cell. Food was pushed through the bars and the cells were guarded to prevent the visitors from communicating with him.[7] It was his personal examples that motivated his fellow Pakhtuns to make supreme sacrifices for the sake of their land. The events of 23rd April, 1930 are a proof of the selflessness of the Khudayi Khidmatgars. The following extracts from Young India sum up what the Pakhtuns had been subjected to that fateful day:

“A troop of English soldiers reached the spot and without any warning to the crowd began firing into the crowd in which a number of women and children were present. When those in front fell down, those behind came forward with their breast bared and exposed themselves to the fire. Some people got as many as 21 bullet wounds. [Still] all the people stood their ground without getting into panic…An old woman seeing her relatives and friends being wounded came forward [but] was shot and [she] fell wounded An old man with a four years old child on his shoulder unable to brook this brutal slaughter advanced asking the soldier to fire at him. He was taken at his word and he too fell down wounded. The crowd kept standing at the spot facing the soldiers and was fired at from time to time until there was heaps of wounded and dying lying about. The Anglo-Indian paper of Lahore, which represents the official view itself wrote to the effect that the people came forward one after another to face the firing and when they fell wounded they were dragged back and others came forward to be shot at. This state of things continued from 11 to 5’o clock in the evening. When the number of corpses became too many the Ambulance cars of the Government took them away.” [8]







Eighteen years later and a year after Independence, the same scene was reenacted in Babara where the loyal members of the same organization, protesting the incarceration of the same leader received the same treatment.[9] The women holding Quran close to their chests and above their heads were an addition. However, the shoot orders this time were not given by colonial rulers. The new rulers were following in the footsteps of their colonial masters. They tried their best to conceal the truth and consequently the tragedy of Babara has been lost in history.

Baacha Khan and his followers never hesitated from offering any sacrifice for the sake of liberty and independence. The tragedy, however, is that in response to their selfless efforts and sacrifices they were always placed under more and severer torture. The treatment meted out to them by the new state was evidence that post partition life for the Khudayi Khidmatgars was going to be very tough. The reasons were obvious. Khudayi Khidmatgars were allies of Congress before partition, and therefore, in the new state they were not going to be accepted as loyal citizens despite all their sincere assurances. In a letter written to the author of Thrown to the Wolves many years after the independence, Baacha Khan said:

“Considerations of personal harm have never weighted with me. What saddens me is that while we shrank from no sacrifice for the sake of India’s independence, the Congress on attaining it forsook us. They gave themselves upto enjoyment while we were left to suffer alone. We are still dubbed ‘Hindus’. This was unbecoming of the Congress” [10]

The plight of his people had compelled him to express his bitterness. This was the utterance of a man whose fear was that the sacrifices of the people who had answered his call and laid down their lives for the cause of Indian independence would go unsung.

One striking characteristic of Baacha Khan was that despite being an affluent and practicing Muslim he never had any elitist and boastful manners that were so visible in some other contemporary Muslim leaders. He never considered religion as dogma that should be used and misused for political purposes. He studied religion and took his lessons from the early days of Islam when Muslims were subjected to worst persecution but they did not resort to armed retaliation. Baacha Khan knew well and also told his people that:

“There are two ways to national progress: one is the path of religion and the other is the road to patriotism. If we are on the road to ruin, it is because we have neither the true spirit of religion, nor the true spirit of patriotism, of love for our nation, nor have we developed any social consciousness.”





While the majority of the non congressional Muslim leaders were implicitly or explicitly emphasizing communal differences culminating into violence, Baacha Khan was vigorously trying to enable his people to get hold of their long forgotten divine weapon – patience. His message to his people was:

“I am going to give you such a weapon that the police and the army will not be able to stand against it. It is the weapon of the Prophet (Peace be upon him), but you are not aware of it. That weapon is patience and righteousness. No power on earth can stand against it. When you go back to your villages, tell your brethren that there is an army of God and its weapon is patience. Endure all hardships. If you exercise patience, victory will be yours.”

This is one message that needs to be spread in every nook and corner of the world. The duteous ones will surely take it.


References;
1-Rehmat in Tagore’s Kabuliwalah and Mahbub Ali in Ki pling’s Kim
2-Pyarelal, Thrown To the Wolves – Abdul Ghaffar: Eastlight Book House, Calcutta, 1966. p27
3-Khan Abdul Wali Khan, Baacha Khan aur Khudaayi Khidmatgaari (taqseem-e-Hind ya taqseem-e-Musalman) in Urdu: Baacha Khan Research Center, Peshawar, 2009. p56
4-Khan Abdul Wali Khan, pp 177-178
5-Farigh Bukhari, Tehrik-e-aazaadi aur Baacha Khan in Urdu: Fiction House, Lahore, 1991. p156
6-Khan Abdul Ghaffar Khan, Zama Zhwand au jidd-o-jihd in Pashto: Kabul Dolati Matba’, Kabul 1981. p146
7-Rajmohan Gandhi, Abdul Ghaffar: The Non Violent Badshah of the Pakhtuns: Penguin Books India, New Delhi, 2004. p62
8-Pyarelal, p 17
9-For details see Khudayi Khidmatgar Salar Karim Dad in Pashto by Salar Abdul Karim: Zia Sons Printers, Peshawar, 2006. pp82-88
10-Pyarelal, p76
11-S.R. Bakhshi, Abdul Ghaffar Khan – The Frontier Gandhi: Anmol Publications, New Delhi, 1992. pp122-123
12-Eknath Easwaran, A Man To Match His Mountain: Badshah Khan, Non Violent Soldier of Islam: Nilgiri Press, California, 2nd Ed. 1985. p117